شدید گرمی اور لو سے بچاؤ کے مؤثر طریقے (بغیر اے سی کے)

0
24
شدید گرمی اور لو سے بچاؤ کے مؤثر طریقے (بغیر اے سی کے)

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہروں کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کے پاس ایئر کنڈیشنر کی سہولت موجود نہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق گرمی کا اثر صرف زیادہ درجہ حرارت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ہوا میں نمی اور حبس بھی انسانی جسم پر شدید اثر ڈال سکتے ہیں۔ بعض اوقات نسبتاً کم درجہ حرارت کے باوجود زیادہ نمی کی وجہ سے بھی طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران رات کا وقت خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اگر درجہ حرارت کم نہ ہو تو جسم کو دن بھر کی تھکن سے آرام نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں اگلے دن کمزوری، بیماری اور شدید حالت میں ہسپتال داخلے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
ماہرین یہ تجویز دیتے ہیں کہ اگر پورے گھر کو ٹھنڈا رکھنا ممکن نہ ہو تو ایک مخصوص کمرے یا جگہ کو نسبتاً ٹھنڈا بنا کر وہاں آرام کیا جائے تاکہ جسم کو کچھ ریلیف مل سکے۔
خشک موسم میں پنکھے اور ایئر کولر فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم زیادہ نمی والے علاقوں میں کولر کی بجائے صرف پنکھے کا استعمال بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ کولر نمی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
گرمی کی شدت میں کمی کے لیے عوامی مقامات جیسے شاپنگ سینٹرز، لائبریریاں یا دیگر ٹھنڈی جگہوں پر کچھ وقت گزارنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق باہر کام کرنے والے افراد خصوصاً مزدوروں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انہیں اکثر کام کے دوران آرام کا مناسب موقع نہیں ملتا۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
گرمی سے بچاؤ کے لیے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقے بھی اہم ہیں، جیسے گیلا کپڑا استعمال کرنا، ہاتھوں اور گردن پر ٹھنڈا پانی لگانا اور ہلکے کپڑے پہننا۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ورزش کرنے والے افراد دن کے ٹھنڈے اوقات میں ورزش کریں اور اضافی پانی ساتھ رکھیں تاکہ پانی کی کمی نہ ہو۔
ہیٹ اسٹروک یا لو لگنے کی ابتدائی علامات میں زیادہ پسینہ آنا، سر درد اور پٹھوں میں کھنچاؤ شامل ہیں۔ اگر علامات بڑھ جائیں تو چکر آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور بے ہوشی جیسے خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں فوری طور پر ٹھنڈی جگہ پر منتقل ہونا اور طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ سنگین نتائج سے بچا جا سکے۔

Leave a reply