مصر میں بازنطینی دور کا قدیم شہر اور تاریخی مقبرے دریافت

مصر کے مغربی ریگستانی علاقے، خصوصاً نخلستانی خطے میں ماہرینِ آثار قدیمہ نے چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والا ایک قدیم شہر دریافت کیا ہے۔ یہ شہر اس دور کی طرف اشارہ کرتا ہے جب مصر بازنطینی سلطنت کے زیرِ اثر تھا۔
دریافت ہونے والے آثار میں رہائشی مکانات، مذہبی عمارات اور ایک قدیم گرجا گھر شامل ہیں جو شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق شہر میں باقاعدہ شہری منصوبہ بندی کے شواہد بھی ملے ہیں، جن میں سڑکیں، چوراہے اور عوامی مقامات شامل ہیں۔
مزید برآں دو قدیم واچ ٹاورز کے آثار بھی سامنے آئے ہیں جو ممکنہ طور پر شہر کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے، جبکہ ایک بڑا عمارتی ڈھانچہ موٹی دیواروں کے ساتھ دریافت ہوا ہے۔ گھروں کے اندر استقبالیہ ہالز، محرابی چھتیں، کچن اور چولہے بھی ملے ہیں۔
کھدائی کے دوران کانسی اور سونے کے سکے، مٹی کے برتن، لیمپ اور روزمرہ استعمال کے اوزار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ سکوں پر بازنطینی شہنشاہوں کی تصاویر اور لاطینی تحریریں موجود ہیں، جبکہ کچھ سکوں کا تعلق شہنشاہ قسطنطین دوم کے دور (337–361 عیسوی) سے جوڑا گیا ہے۔
اسی علاقے کے قریب، Byzantine Empire کے زیرِ اثر رہنے والے تاریخی آثار کی موجودگی بھی اس دور کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس کے علاوہ، اسکندریہ کے مغرب میں تقریباً 62 میل کے فاصلے پر 18 قدیم مقبرے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں جبکہ کچھ چونے کے پتھر سے تعمیر شدہ ہیں۔ مقبروں سے برتن، لیمپ اور دیگر نوادرات بھی برآمد ہوئے ہیں، جو اس خطے کی قدیم تہذیب اور طرزِ زندگی کو واضح کرتے ہیں۔
یہ دریافتیں Egypt کی قدیم تاریخ اور اس کی تہذیبی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں، جبکہ Alexandria کے مغربی علاقوں میں ہونے والی کھدائیوں سے بھی اہم تاریخی شواہد سامنے آ رہے ہیں۔








