فلاحی منصوبہ یا سیاسی معرکہ؟

اسلام آباد کی ایک سرکاری رپورٹ نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب برسوں سے تلاش کیا جا رہا تھا: آخر وہ ادارہ جو لاکھوں غریب خاندانوں کی قسمت بدلنے کے دعوے کے ساتھ شروع ہوا، وہ خود اپنے ملازمین کے لیے مستقل نظام کیوں نہ بنا سکا؟
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو 2008 میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے غریب طبقات کی مالی معاونت کے لیے شروع کیا تھا۔ وقت گزرتا گیا، حکومتیں بدلتی رہیں، بجٹ بڑھتے رہے، مگر ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ 18 سال بعد بھی ادارہ مکمل سروس انفرااسٹرکچر کے بغیر چل رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹرز سے لے کر ڈرائیور تک متعدد ملازمین طویل عرصے سے ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک ایسا ادارہ جس کا سالانہ بجٹ سیکڑوں ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، وہ مستقل انتظامی بنیادوں پر کیوں کھڑا نہ ہو سکا؟
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و معاشرتی تحفظ میں بھی یہی معاملہ زیر بحث آیا، جہاں بتایا گیا کہ منظور شدہ آسامیوں پر بھی مستقل بھرتیاں نہیں ہو سکیں۔ کمیٹی نے سروس اسٹرکچر اور مستقل بھرتیوں سے متعلق سمری وزارت خزانہ کو بھیجنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب پروگرام کو مکمل ڈیجیٹل بنانے کا عمل بھی جاری ہے، جس کے بعد مستحقین کو رقوم وصول کرنے کے لیے مختلف بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع دستیاب ہوں گے۔ یہ تبدیلی بلاشبہ سہولت کا باعث بن سکتی ہے، لیکن بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا صرف ڈیجیٹل نظام بنا دینے سے ادارہ جاتی کمزوریاں ختم ہو جائیں گی؟
حکومتیں بدلیں، پروگرام برقرار رہا
2008 کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) نے بھی اس پروگرام کو جاری رکھا۔ 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت نے بھی اسے ختم کرنے کے بجائے اپنے دور میں احساس پروگرام کے نام کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اپریل 2022 کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اشتراک سے قائم حکومت میں بھی یہ پروگرام نہ صرف جاری رہا بلکہ اس کے بجٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔
موجودہ مالی سال میں اس پروگرام کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اتنے بڑے مالی حجم کے ساتھ کسی بھی ادارے کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ، شفاف نگرانی اور مؤثر احتساب ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن سیاسی حمایت اور مخالفت کے درمیان یہ منصوبہ ہمیشہ بحث کا مرکز رہا ہے۔ حامی اسے غریب طبقے کے لیے ضروری سہارا قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف ایک ادارہ نہیں
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا معاملہ دراصل پاکستان کے وسیع تر سرکاری نظام کی ایک جھلک ہے، جہاں کئی ادارے کاغذوں میں مضبوط نظر آتے ہیں مگر عملی طور پر انتظامی مسائل، تاخیر اور بے ضابطگیوں کا شکار رہتے ہیں۔
آڈٹ رپورٹس میں مختلف محکموں میں مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی معمول بن چکی ہے۔ کئی معاملات میں سرکاری رقوم کے استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں، مگر کارروائی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی منصوبے کے کاغذات مکمل ہوتے ہیں، بل ادا ہو جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ سڑکوں، صفائی کے منصوبوں، ترقیاتی کاموں اور دیگر سرکاری اسکیموں سے متعلق شکایات اسی طرز کے سوالات کو جنم دیتی رہی ہیں کہ نگرانی کا نظام کہاں کمزور پڑ جاتا ہے؟
کرپشن یا بے ضابطگی؟ ایک پرانی بحث
سرکاری معاملات میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی بڑا مالی معاملہ سامنے آتا ہے تو اکثر اسے کرپشن کے بجائے “بے ضابطگی” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
قانونی طور پر بے ضابطگی اور بدعنوانی میں فرق ضرور ہے، لیکن عوام کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر اربوں روپے عوامی خزانے سے خرچ ہوئے ہیں تو ذمہ داری کا تعین کیسے ہوگا؟ غلط فیصلے، کمزور نگرانی اور ناقص منصوبہ بندی بھی بالآخر قومی وسائل کو متاثر کرتی ہیں۔
احتساب کے ادارے اور عوام کا اعتماد
پاکستان میں نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر نگرانی کے ادارے موجود ہیں، لیکن بار بار سامنے آنے والی شکایات یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ صرف ادارے بنا دینا کافی ہے یا ان کے مؤثر استعمال کی بھی ضرورت ہے؟
جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ ایک ہی نوعیت کے معاملات بار بار سامنے آتے ہیں مگر نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی، تو اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ فلاحی منصوبے سیاسی بحث سے بالاتر ہو کر مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر چلیں۔ غریبوں کی مدد کرنے والے پروگراموں کو نہ صرف مالی وسائل بلکہ شفاف نظام، مستقل ملازمین، واضح ذمہ داریوں اور سخت نگرانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مستقبل صرف اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ اس میں کتنی رقم مختص کی جاتی ہے، بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ اسے کتنی مضبوط حکمرانی، شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔
کیونکہ مسئلہ صرف اربوں روپے کا نہیں، مسئلہ عوام کے اعتماد کا ہے۔









