بلوچستان پھر کیوں سلگ رہا ہے؟ وہ سوالات جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں

بلوچستان پھر کیوں سلگ رہا ہے؟ وہ سوالات جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں

تحریر:محمد محسن

بلوچستان ایک بار پھر خون، خوف اور بے یقینی کی خبروں میں ہے۔ کہیں سڑکیں بند ہیں، کہیں دہشت گرد حملے کر رہے ہیں، کہیں سیکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں، اور کہیں عام شہری اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا صرف بندوق سے یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے، یا اس کے ساتھ سیاسی بصیرت، انصاف اور مؤثر حکمرانی بھی ضروری ہے؟
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کے مخالف عناصر بلوچستان میں بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریاستی مؤقف کے مطابق بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے: اگر اندرونی حالات مضبوط، عوام مطمئن اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو تو کیا بیرونی مداخلت کو اتنی گنجائش مل سکتی ہے؟
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جہاں عوام اور ریاست ایک صف میں کھڑے ہوں، وہاں دہشت گردی کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں انصاف کمزور ہو، کرپشن عام ہو، نوجوان بے روزگار ہوں اور عوام خود کو نظرانداز محسوس کریں، وہاں شدت پسند عناصر کے لیے جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
بلوچستان کے حالات ایک دن میں خراب نہیں ہوئے۔ اگر کسی علاقے میں دہشت گرد کئی گھنٹے تک کارروائی کرتے رہیں اور ریاستی ردعمل تاخیر کا شکار ہو تو عوام کے ذہنوں میں سوالات جنم لینا فطری ہیں۔ اسی طرح اگر مقامی آبادی خود کو فیصلہ سازی سے باہر محسوس کرے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں، اور یہی خلا دشمن قوتیں استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
امن صرف عسکری کامیابی کا نام نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور شفاف حکمرانی کا بھی نام ہے۔ دنیا بھر کے سیکیورٹی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدید دور میں جنگیں صرف فوجیں نہیں لڑتیں، پوری قوم لڑتی ہے۔ اگر عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں تو دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
بلوچستان میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ اگر حکومت تمام آئینی و جمہوری قوتوں سے سنجیدہ مکالمہ کرے، عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے، اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بھی آئینی دائرے میں سننے کی روایت مضبوط کرے تو یہ امن کے لیے مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان میں بے گناہ شہریوں، مزدوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے قابلِ مذمت ہیں۔ کسی بھی پاکستانی کی جان، خواہ وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ معصوم شہریوں کا قتل نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔
بلوچستان کے لیے اب وقتی بیانات نہیں بلکہ طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکمتِ عملی جس میں مؤثر گورننس، شفاف انتخابات، مضبوط مقامی حکومتیں، بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، نوجوانوں کے لیے روزگار، معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات اور قانون کی یکساں عملداری شامل ہو۔
دوسری جانب، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت، جدید تربیت، بہتر انٹیلی جنس، مؤثر رابطہ کاری اور عوامی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے، جبکہ ہر کارروائی قانون اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہو تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
بلوچستان صرف معدنی وسائل کا خزانہ نہیں، بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور قومی سلامتی کا اہم ستون ہے۔ اگر وہاں امن آئے گا تو پورا پاکستان مضبوط ہوگا، اور اگر وہاں بے چینی برقرار رہی تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔
آج ضرورت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی، سیاسی دانش، مؤثر حکمرانی اور قومی یکجہتی کی ہے۔ کیونکہ مضبوط ریاست صرف طاقت سے نہیں بنتی، بلکہ انصاف، اعتماد، شفافیت اور عوام کے ساتھ مضبوط رشتے سے بنتی ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں، پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اور اس کا پائیدار حل بھی اسی وقت ممکن ہوگا جب ریاست، سیاسی قیادت، ادارے اور عوام مل کر امن، انصاف اور ترقی کے مشترکہ راستے پر آگے بڑھیں۔

Leave a reply