کراچی کی تباہی کا اصل سبب کیا ہے؟ اختیار کی جنگ یا نظام کی ناکامی؟

کراچی کی تباہی کا اصل سبب کیا ہے؟ اختیار کی جنگ یا نظام کی ناکامی؟

تحریر:نور فاطمہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی فہرست دیکھیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ خوشحال شہر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں یا بڑے بجٹ سے نہیں بنتے، بلکہ مضبوط مقامی حکومت، واضح اختیارات اور جواب دہ اداروں سے بنتے ہیں۔
زیورخ، جنیوا، کوپن ہیگن، اسٹاک ہوم، ٹوکیو اور ٹورنٹو جیسے شہر دنیا کے بہترین رہائشی شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان شہروں کے شہریوں کو صاف پانی، بہترین ٹرانسپورٹ، محفوظ سڑکیں، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، جدید کچرا نظام، پارکس، کھیل کے میدان اور فوری بلدیاتی خدمات اس لیے حاصل ہیں کہ ان کے شہر اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔
وہاں شہری حکومت صرف کچرا اٹھانے والا ادارہ نہیں بلکہ شہر کی حقیقی مالک ہوتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں مقامی حکومتیں ٹیکس وصول کرنے اور اپنے ترقیاتی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ جرمنی کے شہروں میں منتخب کونسلیں اور میئر شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی اور کئی اہم معاملات خود سنبھالتے ہیں۔ جاپان میں میئر اور سٹی اسمبلی براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں شہری ترقی کے وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی مقامی حکومتیں اپنے شہروں کے بنیادی معاملات کی اصل ذمہ دار ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کے بڑے شہر اختیار دے کر ترقی کر رہے ہیں تو کراچی جیسے شہر کو اختیار سے محروم کیوں رکھا گیا؟
کراچی… پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی شہ رگ، کروڑوں لوگوں کا گھر، مگر آج ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر اپنے ہی بوجھ تلے دب چکا ہے۔
یہ وہ شہر ہے جہاں ایک طرف ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے، صنعتیں ہیں، کاروبار ہے، اربوں روپے کا معاشی پہیہ چلتا ہے، لیکن دوسری طرف شہری بنیادی سہولیات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
کراچی کا المیہ یہ ہے کہ شہر موجود ہے مگر اختیار موجود نہیں۔
پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت، پانی الگ ادارے کے پاس، کچرا کسی اور کے پاس، زمین کے معاملات مختلف اداروں میں تقسیم، ترقیاتی منصوبے کئی ہاتھوں میں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب شہری کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ شکایت کس سے کرے۔
یہی سب سے بڑا بحران ہے: ذمہ داری بٹی ہوئی ہے، مگر سزا ہمیشہ شہری کو ملتی ہے۔
دنیا کے کامیاب شہروں میں شہری حکومت کو طاقت دی جاتی ہے تاکہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کر سکیں۔ اگر سڑک خراب ہو، پانی نہ آئے، صفائی نہ ہو یا امن و امان کا مسئلہ ہو تو شہری جانتے ہیں کہ ذمہ دار کون ہے۔
کراچی میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ایک شہری بجلی کا بل وقت پر ادا کرتا ہے مگر بجلی کے لیے متبادل انتظام کرتا ہے۔ پانی کا بل دیتا ہے مگر پینے کے لیے فلٹر اور منرل واٹر خریدتا ہے۔ گیس کا بل دیتا ہے مگر سلنڈر کا انتظام بھی کرتا ہے۔ ٹیکس اور فیس ادا کرتا ہے مگر اپنی حفاظت کے لیے گلیوں میں بیریئر لگاتا ہے اور نجی سیکیورٹی رکھتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک شہری ریاست کو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے خود ہی نظام کیوں بنانا پڑ رہا ہے؟
کراچی کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ٹرانسپورٹ کا بحران برسوں سے جاری ہے، سرکاری تعلیمی ادارے زوال کا شکار ہیں، صحت کی سہولیات دباؤ میں ہیں اور اسٹریٹ کرائم نے شہریوں کا سکون چھین لیا ہے۔
ایک ایسا شہر جہاں نوجوان مستقبل کے خواب دیکھنے کے بجائے ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وہاں مسئلہ صرف ترقی کا نہیں بلکہ اعتماد کے خاتمے کا ہے۔
جب ایک نوجوان یہ سوچنے لگے کہ اس کا مستقبل اپنے شہر میں نہیں، کسی دوسرے ملک میں ہے تو یہ صرف ایک فرد کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔
کراچی کو صرف منصوبوں کی نہیں، اختیار کی ضرورت ہے۔
اس شہر کو ایسے بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جہاں منتخب شہری حکومت کے پاس پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور امن و امان کے معاملات میں حقیقی طاقت ہو۔ جہاں عوام اپنے نمائندوں کو جواب دہ بنا سکیں اور جہاں کسی مسئلے کے بعد ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے حل فراہم کریں۔
دنیا نے یہ راز کئی دہائیاں پہلے سمجھ لیا تھا کہ مضبوط شہر ہی مضبوط ملک بناتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی یہ حقیقت تسلیم کریں کہ کراچی کو صرف وعدوں، افتتاحی تختیوں اور وقتی منصوبوں سے نہیں بچایا جا سکتا۔
کراچی کو اختیار چاہیے، ذمہ داری چاہیے اور ایک ایسا نظام چاہیے جہاں شہر کا فیصلہ شہر کے لوگ کریں۔
کیونکہ اگر شہر ہی بے اختیار رہے گا تو ترقی کے خواب صرف تقریروں میں رہ جائیں گے۔
اور یاد رکھنا ہوگا:
شہر تب مرتے ہیں جب مسائل بڑھتے نہیں، بلکہ جب مسائل کے حل کا اختیار چھین لیا جاتا ہے۔

Leave a reply