اسلام آباد میں 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے لیے سیکیورٹی سخت، اضافی نفری طلب

0
26
اسلام آباد میں 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے لیے سیکیورٹی سخت، اضافی نفری طلب

اسلام آباد: 27 ستمبر کو ممکنہ سیاسی احتجاج اور مارچز کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ حکام نے اضافی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر رکاوٹیں قائم کرنا شروع کردی ہیں۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پنجاب سے 9 ہزار سے زائد، سندھ سے بھی 9 ہزار سے زائد جبکہ آزاد کشمیر سے تقریباً 6 ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 25 سے 30 ہزار اضافی اہلکاروں کی تعیناتی متوقع ہے۔

انتظامیہ نے اسلام آباد کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر ایک ہزار سے زائد کنٹینرز رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ریڈ زون، ڈی چوک اور دیگر حساس مقامات پر بھی کنٹینرز لگا کر سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

جڑواں شہروں کے تقریباً 30 داخلی راستوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی سامنے آئی ہے، جن میں راولپنڈی کے 11 راستے بھی شامل ہیں۔ موٹروے، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر بھی اضافی نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسپتالوں میں بھی ہائی الرٹ

ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ طبی مراکز میں اضافی بیڈز مختص کرنے، خون کا ذخیرہ یقینی بنانے اور ایمبولینسز کو ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسپتالوں میں یہ ہائی الرٹ 30 ستمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تعلیمی اداروں سے متعلق صورتحال

اسلام آباد کے بعض تعلیمی ادارے پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے استعمال کیے جانے کے باعث بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے 24 تعلیمی ادارے منگل سے بند رہیں گے، جبکہ دیگر ادارے معمول کے مطابق کھلے رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر کے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ انتظامیہ کے مطابق عام تعطیل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور انٹرا سٹی و بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔

راولپنڈی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فی الحال شہر کی کسی اہم شاہراہ کو بند نہیں کیا گیا۔

مختلف جماعتوں کے احتجاجی پروگرام

اسلام آباد میں آنے والے دنوں کے دوران مختلف سیاسی و عوامی احتجاجی پروگرامز بھی متوقع ہیں۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ کسان اتحاد کی جانب سے بھی احتجاجی مارچ کی کال دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

حکومت کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر امن و امان برقرار رکھنے اور اہم سرکاری و شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری اور عارضی رکاوٹیں تعینات کی جا سکتی ہیں، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

Leave a reply