ٹرمپ کی پوسٹ پہلے دیکھنے کے لیے لاکھوں ڈالر؟ نئی سروس نے ہلچل مچا دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت والی سوشل میڈیا کمپنی نے مالیاتی اداروں کے لیے ایک نئی سروس متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے ذریعے انہیں ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے دستیاب ہو سکیں گی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) اس سہولت کے لیے بعض سرمایہ کاری اداروں اور مالیاتی کمپنیوں سے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس لینے پر غور کر رہا ہے۔ تین سالہ معاہدے کی صورت میں کچھ اداروں کو کم قیمت پیکیج بھی پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
کمپنی نے اس سروس کو “ٹروتھ اے پی آئی” کا نام دیا ہے، جس کے ذریعے بینکوں، ٹریڈنگ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ٹروتھ سوشل کے منتخب اہم اکاؤنٹس کی پوسٹس تک تیز رفتار رسائی دی جائے گی۔ یہ سروس اگست سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیانات ماضی میں مالیاتی منڈیوں پر فوری اثر ڈال چکے ہیں، اسی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی سے فیصلے کرنے والے اداروں کے لیے چند سیکنڈ یا ملی سیکنڈ پہلے معلومات تک رسائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سہولت سے بڑے مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس سے صدر کے عہدے کے ممکنہ تجارتی استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں۔ سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کی رکن الزبتھ وارن سمیت بعض ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ناقدین کے مطابق اگر کسی صدر کے ایسے بیانات جن کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے، انہیں خصوصی فیس کے عوض پہلے فراہم کیا جائے تو اس سے شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ میڈیا کا مؤقف ہے کہ یہ سروس کمپنی کے ڈیٹا لائسنسنگ کاروبار کو وسعت دینے کی کوشش ہے اور اس کے ذریعے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ٹرمپ خاندان کا کمپنی میں بڑا حصہ موجود ہے، جس کی وجہ سے سیاسی مخالفین اس معاملے کو ذاتی مالی فائدے سے جوڑ رہے ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین اس طرح کی صورتحال کو واضح طور پر بیان نہیں کرتے۔
ٹرمپ میڈیا کے حصص رواں سال دباؤ کا شکار رہے ہیں اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔








