آبنائے ہرمز میں بڑا معرکہ؟ ایران کا امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

0
17
آبنائے ہرمز میں بڑا معرکہ؟ ایران کا امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ خلیجی خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور اہم مقامات کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں فوجی اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بعض مقامات پر توانائی اور پانی کی سہولیات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ساحلی علاقے جاسک میں پانی کی فراہمی سے متعلق تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے باعث کچھ علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح بعض اہم سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائیوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری وسائل کا استعمال کیا گیا۔
امریکی حکام نے خطے میں اپنی فوجی تیاریوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی اتحادی ممالک میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض خلیجی ممالک میں موجود امریکی مراکز پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
کچھ ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں شہریوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
ایران کے سابق اعلیٰ فوجی عہدیدار محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو ایران اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب سمیت بعض خلیجی ممالک نے حفاظتی اقدامات کے تحت الرٹ جاری کیے، تاہم حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر نقصان کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Leave a reply