مسافر بردار کشتی الٹنے سے 44 افراد جاں بحق

زمبابوے میں جھیل کاریبا میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 44 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حادثے کے بعد امدادی اداروں نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق کشتی میں اس کی مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے۔ مختلف سرکاری ذرائع نے کشتی پر موجود افراد کی تعداد 119 سے 153 کے درمیان بتائی ہے، تاہم درست تعداد کی حتمی تصدیق جاری ہے۔
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد اب تک 44 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ 77 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے فوجی کشتیاں، پولیس کا غوطہ خور یونٹ اور ایک نجی ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی خراب موسم اور تیز لہروں کی زد میں آئی، جس کے بعد وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور جھیل میں الٹ گئی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق بڑی لہر سے ٹکرانے کے بعد کشتی کا انجن بھی بند ہوگیا تھا۔
جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر واقع ہے اور خطے میں آمدورفت، ماہی گیری اور پن بجلی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
زمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا نے حادثے کے بعد ریاستی سطح پر آفت کا اعلان کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔









