امریکا ایران معاہدہ: 60 روزہ توسیع کا دعویٰ، تہران نے بھانڈا پھوڑ دیا

0
13
امریکا ایران معاہدہ: 60 روزہ توسیع کا دعویٰ، تہران نے بھانڈا پھوڑ دیا

امریکا اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مجوزہ عبوری معاہدے کی مدت میں توسیع کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے معاہدے کی ڈیڈلائن میں مزید 60 روز کی توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کردی ہے۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے کی موجودہ ڈیڈلائن 21 اگست کو ختم ہونی ہے، جبکہ مذاکرات میں پاکستان کو بھی اہم کردار حاصل ہے۔
دوسری جانب ایک ایرانی سینئر عہدیدار نے توسیع سے متعلق کسی بھی پیش رفت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی بحالی یا اس پر عمل درآمد کے لیے وقت طے کرنے کے حوالے سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا نے معاہدے پر دستخط کے صرف 48 گھنٹے بعد اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد معاہدے سے دستبردار ہوگیا۔ جون میں ہونے والے سمجھوتے کے تحت فریقین نے فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں یہ انتظام برقرار نہ رہ سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز بھی ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران نے بحری راستہ کھولنے سے متعلق اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ امریکا نے بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی اثاثے بحال کرنے سمیت اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران باتیں زیادہ اور عملی اقدامات کم کرتا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف برقرار ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھی خطے میں امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی منڈی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جبکہ خلیج عمان میں حالیہ بحری واقعات نے خطے میں کشیدگی مزید برقرار رکھی ہے۔
فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا مستقبل غیر یقینی ہے اور معاہدے کی ڈیڈلائن میں توسیع کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Leave a reply