آبنائے ہرمز میں خوفناک دھماکا، آئل ٹینکر جل کر تباہ، ایران امریکا آمنے سامنے

آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر شدید آتشزدگی کے بعد تباہ ہوگیا، تاہم واقعے کی وجہ سے متعلق ایران اور امریکا نے متضاد دعوے کیے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والا آئل ٹینکر ’ایل گایا‘ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک محدود راستے سے گزرنے کے دوران بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ ٹکر کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے بجھانے کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔
ایرانی حکام نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی نگرانی اور مکمل کنٹرول میں ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹینکر بارودی سرنگ سے نہیں ٹکرایا بلکہ اسے گزشتہ ماہ ایرانی میزائل سے نقصان پہنچا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں جہاز کو ایک ایرانی ڈرون کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ متاثرہ جہاز کو خطے میں موجود ایک اتحادی ملک کی معاونت سے کھینچ کر محفوظ مقام کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔
امریکی کمانڈ نے ایران کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ایسے دعوے اور دھمکیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
ادھر جنوبی ایران کے قریب دو ایرانی ماہی گیری کی کشتیاں بھی ڈرون حملوں کی زد میں آنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد ماہی گیروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہاں کسی تجارتی جہاز کو پہنچنے والے نقصان سے خطے میں کشیدگی اور عالمی بحری تجارت کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں تباہ کردیا گیا ہے۔
تاہم ’ایل گایا‘ کے واقعے میں بارودی سرنگ، میزائل یا ڈرون حملے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور واقعے کی آزادانہ تصدیق فی الحال سامنے نہیں آئی۔









