امریکا کا حوثیوں سے براہِ راست رابطہ، خطے کے ممالک سے بھی مشاورت جاری

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ امریکا یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر متاثرہ ممالک سے بھی مشاورت جاری ہے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بات کینساس سٹی میں ایک سیاسی سرگرمی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ تاہم انہوں نے حوثیوں کے ساتھ ہونے والے رابطوں کی تفصیلات، مذاکرات کی جگہ یا ان میں شریک افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق واشنگٹن خطے کی صورت حال پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایسے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے جو امریکی مفادات اور عوام کے لیے مناسب ہوں۔
امریکی نائب صدر نے یمن کے میون جزیرے کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ جزیرہ آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ شمار ہوتا ہے۔
یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث خطے کی سکیورٹی صورت حال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جبکہ موخا اور باب المندب کے اطراف اہم مقامات اور جزائر پر بھی ان کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے واشنگٹن سے تعاون چاہتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کے دوران حوثیوں کے خلاف کارروائی اور سعودی فوجی اقدامات میں امریکی معاونت کی خواہش ظاہر کی۔
تاہم امریکی صدر اور پینٹاگون کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ امریکا حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ البتہ سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر تعاون کیا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی فوجی کمانڈ سینٹکام کے سربراہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی ولی عہد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حوثیوں کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور خطے میں ممکنہ ردِعمل پر بات چیت کی گئی۔
یوں واشنگٹن ایک طرف حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے صورت حال کو سمجھنے اور ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی، انٹیلی جنس اور ممکنہ اقدامات پر مشاورت بھی جاری ہے۔
ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے بعد یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں امریکا کے لیے مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تاہم حوثی گروپ کی جانب سے امریکی نائب صدر کے براہِ راست رابطوں سے متعلق بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔









