یہ طیارہ میرا نہیں، پنجاب حکومت کا ہے‘، مریم نواز

0
16
یہ طیارہ میرا نہیں، پنجاب حکومت کا ہے‘، مریم نواز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرکاری طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی وہ اسے اپنے ساتھ رائیونڈ لے کر جائیں گی۔

لاہور میں سینئر آفیسرز لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں کام کیے جانے کے باوجود تنقید کا محور بار بار طیارہ ہی بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں، رمضان پیکیج، سڑکوں کی تعمیر، سیوریج کے نظام اور ایئر ایمبولینس جیسے اقدامات پر بات ہونی چاہیے، لیکن ہر معاملے میں طیارے کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ انہیں سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں بیرون ملک بھی سفر کرنا پڑتا ہے اور مختلف تقریبات میں شرکت کرنا ہوتی ہے، اس لیے ایسے سفر موٹر سائیکل پر نہیں کیے جا سکتے۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ دیگر صوبوں میں بھی مہنگے سرکاری اثاثے خریدے گئے ہیں، تاہم ان پر پنجاب کے طیارے جیسی بحث نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کے طیارے کی قیمت تقریباً 10 سے 11 ارب روپے ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں نے اس سے زیادہ مالیت کے ہیلی کاپٹر بھی خریدے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے داخلی سیکیورٹی اور بہتر طرز حکمرانی اہم ہیں۔ ان کے مطابق مسلح افواج بیرونی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم داخلی نظام میں کمزوریاں برقرار رہیں تو سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مریم نواز نے پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ حکمرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔

لندن سفر پر بھی طیارے کا استعمال زیرِ بحث

مریم نواز گزشتہ ماہ اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں۔ اس سفر کے لیے پنجاب حکومت کا گلف اسٹریم G500 طیارہ استعمال کیے جانے پر سیاسی اور عوامی سطح پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

سرکاری طیارے کے نجی سفر میں استعمال پر ہونے والی تنقید کے بعد قومی خزانے میں تقریباً 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار روپے جمع کرائے گئے تھے۔

مریم نواز اس سے قبل بھی طیارے کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان کا کوئی سفر مکمل طور پر نجی نہیں ہوتا اور سرکاری ذمہ داریوں کے باعث وقت کی بچت ان کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جہاں عوامی ذمہ داریوں کے لیے ضرورت ہوگی، وہاں وہ طیارے کے ذریعے سفر کریں گی۔

Leave a reply