21سال تک کباڑ چننے والا شخص اچانک کروڑ پتی بن گیا

چین میں ایک 71 سالہ شخص کی زندگی اس وقت حیران کن طور پر بدل گئی جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے نام پر گزشتہ کئی برسوں سے پنشن کی رقم جمع ہو رہی تھی۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص، جس کا نام ریو بتایا گیا ہے، گزشتہ 21 برس سے کباڑ جمع کرکے اپنا گزر بسر کر رہا تھا۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ حکومت کی جانب سے اس کے لیے پنشن بھی مقرر کی جا چکی ہے۔
ریو کو ستمبر 2026 کے دوران اس وقت اپنی پنشن اکاؤنٹ کا علم ہوا جب اسے بینک کارڈ فراہم کیا گیا۔ اکاؤنٹ چیک کرنے پر اس میں 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان موجود تھے، جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔
ریو نے ماضی میں ایک سرکاری دکان میں تقریباً 30 سال ملازمت کی تھی، تاہم 2000 کی دہائی میں اسے معاوضہ دے کر ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں وہ رقم ختم ہوگئی اور مالی مشکلات نے اسے قرض لینے پر مجبور کردیا۔
بعد ازاں وہ کباڑ جمع کرنے لگا اور صوبہ ہونان کے علاقے چنگڈو منتقل ہوگیا، جہاں اس نے کئی سال انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزاری۔
2024 کے دوران مقامی حکام کو معلوم ہوا کہ ریو ایک خستہ حال عمارت میں رہائش پذیر ہے۔ ابتدا میں اس نے سرکاری پناہ گاہ میں جانے سے انکار کیا، تاہم حکام کی جانب سے مسلسل تعاون اور ضروری اشیا کی فراہمی کے بعد وہ وہاں منتقل ہونے پر رضامند ہوگیا۔
اسی دوران اس کی ذاتی معلومات سامنے آئیں تو حکام کو معلوم ہوا کہ وہ کئی برس سے پنشن کا حقدار تھا۔ چینی قوانین کے مطابق ریو 2015 میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا تھا اور اس کے لیے ماہانہ تقریباً 3700 یوان پنشن مقرر تھی۔
موبائل فون نہ ہونے اور مالی مشکلات کے باعث ریو کو اپنی پنشن کے بارے میں کبھی اطلاع نہیں مل سکی۔ نتیجتاً ایک دہائی سے زائد عرصے تک اس کی پنشن اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی۔
بینک کارڈ ملنے کے بعد جب اسے اپنے اکاؤنٹ میں موجود خطیر رقم کا پتا چلا تو وہ حیران رہ گیا۔ ریو نے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسے کبھی توقع نہیں تھی کہ اس کی زندگی میں ایسا دن بھی آئے گا۔
اب اس معمر شخص نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چنگڈو میں ایک فلیٹ کرائے پر لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔









