تلوار ہار گئی، گیند جیت گئی

تلوار ہار گئی، گیند جیت گئی

تحریر:محمد رشید

جب فائنل کی آخری سیٹی بجی تو صرف ایک ٹیم عالمی چیمپئن نہیں بنی، بلکہ دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق ملا کہ قوموں کی اصل طاقت ان کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اسپین کی نوجوان ٹیم نے اپنی برق رفتار حکمتِ عملی، شاندار ٹیم ورک اور بے مثال نظم و ضبط سے ثابت کر دیا کہ عالمی اعزاز قسمت سے نہیں، برسوں کی منصوبہ بندی، مضبوط کھیلوں کے نظام اور نوجوانوں پر اعتماد سے حاصل ہوتے ہیں۔
مگر ذرا ایک لمحے کے لیے اسٹیڈیم کی گونج سے نکل کر تاریخ کے صفحات پلٹیں۔
آج لاکھوں تماشائی ایک خوبصورت گول پر خوشی سے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہیں، لیکن ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب روم کے ایمفی تھیٹروں میں انسانوں کو تفریح کے لیے ایک دوسرے کے سامنے موت کی جنگ لڑنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں میں گیند نہیں، تلواریں ہوتی تھیں۔ شکست کا مطلب صرف ہار نہیں بلکہ موت ہوتا تھا، اور زخمی انسان کی زندگی کا فیصلہ تماشائیوں کے ایک انگوٹھے سے ہوتا تھا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسان نے کتنی لمبی مسافت طے کی ہے۔
ایک دور تھا جب طاقت خون بہا کر ثابت کی جاتی تھی، اور آج وہی طاقت کھیل کے میدان میں مہارت، برداشت اور کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ یہی تہذیب کا ارتقا ہے۔ تلوار تقسیم کرتی ہے، گیند جوڑتی ہے۔ تلوار دشمن پیدا کرتی ہے، کھیل حریف پیدا کرتے ہیں، اور حریف کا احترام کیا جاتا ہے۔
پاکستان… جو عالمی کپ میں تھا، مگر ایک مختلف انداز میں
اگرچہ پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم عالمی کپ کا حصہ نہیں تھی، لیکن سیالکوٹ ضرور موجود تھا۔
دنیا کے عظیم ترین اسٹیڈیموں میں جس گیند نے جال ہلایا، اس کے پیچھے پاکستانی کاریگروں کی محنت شامل تھی۔ یہ صرف ایک کاروباری کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ہنر عالمی معیار پر پورا اترتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ گیندیں ہی بناتے رہیں گے، یا کبھی وہ دن بھی آئے گا جب یہی گیند پاکستانی کھلاڑی عالمی کپ میں کِک کریں گے؟
لیاری… جہاں فٹ بال سانس لیتی ہے
پاکستان میں اگر فٹ بال کی روح کو کہیں محسوس کرنا ہو تو کراچی کے علاقے لیاری چلے جائیں۔
عالمی کپ کے دوران یہاں کی گلیاں برازیل، ارجنٹینا، اسپین، فرانس اور پرتگال کے رنگوں میں رنگ جاتی ہیں۔ بڑی بڑی اسکرینوں کے سامنے بچے، نوجوان اور بزرگ ایک ساتھ بیٹھ کر ہر خوبصورت پاس پر داد دیتے ہیں اور ہر گول پر پورا محلہ جشن میں ڈوب جاتا ہے۔
یہ منظر بتاتا ہے کہ کھیل مذہب، نسل، زبان اور سیاست سے کہیں بڑا رشتہ قائم کرتے ہیں۔
کرکٹ ڈپلومیسی… جب ایک میچ نے جنگ کے سائے ہلکے کیے
کھیل صرف تفریح نہیں، سفارت بھی ہیں۔
1987ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کے دوران جنرل ضیاء الحق کا جے پور جا کر ٹیسٹ میچ دیکھنا محض کرکٹ کا شوق نہیں تھا بلکہ ایک سفارتی پیغام تھا۔ تاریخ اسے “کرکٹ ڈپلومیسی” کے نام سے یاد کرتی ہے۔
کبھی کبھی جہاں مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، وہاں ایک گیند مکالمے کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
اسپین نے جیتا کپ… مگر اصل سبق دنیا کے لیے چھوڑ گیا
اسپین کی کامیابی صرف ایک ٹرافی کی جیت نہیں، بلکہ ایک فلسفہ ہے۔
یہ سبق ہے کہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری، شفاف ادارے، مستقل تربیت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کسی بھی قوم کو دنیا کی چوٹی پر پہنچا سکتی ہے۔
پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں۔ کمی صرف اس اعتماد، نظام اور تسلسل کی ہے جو کسی بھی خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
آج بھی دنیا کے کئی میدان خون سے رنگے ہیں
بدقسمتی سے آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں بچے کھلونوں کے بجائے پتھر اٹھانے پر مجبور ہیں۔ کہیں اسٹیڈیموں کی جگہ پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں اور کہیں گول پوسٹوں کی جگہ بارود نے لے لی ہے۔
ایسے میں عالمی کپ صرف ایک کھیل نہیں رہ جاتا، بلکہ امید کا جشن بن جاتا ہے۔
جب کوئی بچہ گلی میں گیند کو ٹھوکر مارتا ہے تو شاید اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صرف کھیل نہیں رہا، بلکہ انسانی تہذیب کے اس سفر کو زندہ رکھ رہا ہے جو خون آلود میدانوں سے سبز میدانوں تک پہنچا ہے۔
آخری سوال…
کیا پاکستان ہمیشہ دنیا کے لیے بہترین فٹ بالیں بناتا رہے گا، یا ایک دن ہماری اپنی قومی ٹیم بھی عالمی کپ کے میدان میں اتر کر دنیا کو حیران کرے گی؟
اس سوال کا جواب قسمت میں نہیں، ہماری منصوبہ بندی، اداروں، نوجوانوں پر اعتماد اور کھیلوں کو دی جانے والی ترجیح میں چھپا ہے۔
کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ تلواریں سلطنتیں بنا سکتی ہیں، لیکن گیندیں تہذیبیں بناتی ہیں۔
اور شاید… یہی انسانیت کی سب سے بڑی فتح ہے۔

Leave a reply