آبنائے ہرمز سے عالمی منڈی تک

دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی طرف نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اب صرف دو ممالک کے درمیان عسکری تصادم نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات خلیج، یمن، سعودی عرب، اسرائیل، عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت تک پھیل چکے ہیں۔ آج 27 ستمبر کی تازہ صورتحال نے اس جنگ کو ایک اور اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران نے حالیہ دنوں میں ایک ایسا راستہ پیش کیا جس میں آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے اور خطے میں لڑائی روکنے کی بات کی گئی۔ یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تنازع کا حل بالآخر مذاکرات اور سفارت کاری ہی سے ممکن ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر جنگ کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا تو پھر دنیا مزید خونریزی کی طرف کیوں بڑھ رہی ہے؟
آبنائے ہرمز اس پوری جنگ کا سب سے اہم محاذ بن چکی ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور ایل این جی اس اہم آبی راستے سے گزرتا تھا۔ اب وہاں جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہو چکی ہے۔ 21 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے اختتام پر صرف 17 کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً تقریباً 125 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
یہ صرف سمندر میں کھڑے جہازوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کے ساتھ دنیا بھر میں تیل، پٹرول، گیس، فریٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ ستمبر کے آغاز میں ایران اور امریکا کے درمیان بحری حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔
یعنی تہران اور واشنگٹن کے درمیان چلنے والی جنگ کا بل صرف ایران یا امریکا کے شہری نہیں دے رہے؛ اس کے اثرات دنیا کے عام صارف تک پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورتحال مزید اہم ہے۔ ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت، درآمدی بل، ڈالر کی طلب، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پہلے ہی عوام کے لیے بڑے مسائل ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ آتا ہے تو اس کے اثرات بالآخر ہماری معیشت اور عام آدمی کی جیب تک پہنچ سکتے ہیں۔
لیکن مسئلہ صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔
یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں اور سعودی عرب کے خلاف میزائل و ڈرون حملوں نے جنگ کو ایک اور سمت دے دی ہے۔ سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا، جبکہ حوثیوں نے ریاض اور سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کی۔
دوسری طرف بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال بھی عالمی تجارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگر خطے کے دونوں اہم سمندری راستے، یعنی آبنائے ہرمز اور باب المندب، مسلسل متاثر رہتے ہیں تو دنیا کے لیے توانائی اور تجارت کی ترسیل مزید مہنگی اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایران بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے آج کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی نئے امریکی حملے کے لیے تیار ہیں اور مزید حملے کی صورت میں امریکا کو زیادہ نقصان پہنچانے کی وارننگ دی ہے۔
امریکا کی طرف سے بھی دباؤ برقرار ہے۔ پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے اور حالیہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایرانی ایئرلائنز کی کئی ممالک کے لیے پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو جنگ کے میدان میں میزائل اور ڈرون ہیں، مگر اصل محاذ صرف میدانِ جنگ نہیں۔ اصل محاذ معیشت، تیل، تجارت، سفارت کاری اور عالمی طاقتوں کے مفادات بھی ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مرحلہ وار معاہدے پر بات چیت کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور امریکی اقتصادی ناکہ بندی میں نرمی جیسے نکات زیرِ بحث آئے۔ لیکن دونوں طرف سے اپنے اپنے مؤقف اور دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش نے کسی حتمی سمجھوتے کو مشکل بنا دیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو سوچنا ہوگا کہ جنگ کی کوئی بھی حد نہیں ہوتی۔ ایک میزائل کا جواب دوسرا میزائل، ایک پابندی کا جواب مزید پابندی اور ایک حملے کا جواب مزید بڑے حملے سے دیا جائے تو جنگ ختم ہونے کے بجائے پھیلتی ہے۔
آج ایران امریکا تنازع میں سب سے اہم خبر شاید یہ نہیں کہ کس نے کس پر حملہ کیا۔ اصل خبر یہ ہے کہ جنگ کے باوجود مذاکرات کی ضرورت دونوں طرف موجود ہے۔ ایران سفارت کاری کی بات کر رہا ہے، امریکا اپنے مطالبات پر قائم ہے، جبکہ خطے کے ممالک اس جنگ کے پھیلاؤ اور اپنے مفادات کے تحفظ کے درمیان راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ عالمی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ اس راستے کی مسلسل بندش صرف ایک فریق کو نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
جنگیں میدان میں شروع ہوتی ہیں لیکن ان کا اختتام اکثر میز پر ہوتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ ایران اور امریکا میں کون زیادہ طاقتور ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب دونوں فریق یہ سمجھیں گے کہ طاقت کے استعمال کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند کر دینے کی قیمت پوری دنیا ادا کر سکتی ہے۔
اگر آج مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو کل مزید میزائل فضا میں ہوں گے، مزید جہاز سمندر میں خطرے میں ہوں گے، تیل کی منڈی مزید بے یقینی کا شکار ہوگی اور عام آدمی مزید مہنگائی کی زد میں آئے گا۔
اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو شاید یہی جنگ ایک ایسے مقام پر رک سکے جہاں سے خطہ دوبارہ تعمیر، تجارت اور امن کی طرف بڑھ سکے۔
فیصلہ ابھی باقی ہے۔
مگر تاریخ ہمیں بار بار یہی بتاتی ہے کہ جنگ جیتنے سے زیادہ مشکل جنگ ختم کرنا ہوتا ہے۔









