
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے ہونے والی ہلاکتوں اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ٹک ٹاکر نے شادی کی تقریب میں قیمتی تحائف اور بھاری نقد انعامات دینے کے اعلانات کے ذریعے لوگوں کی بڑی تعداد جمع کی۔ ان کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرکے آمدن میں اضافہ کرنا تھا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انعامات کے اعلان پر جمع ہونے والے ہجوم میں بدنظمی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹک ٹاکر قانون سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کی نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال اور اس سے ہونے والی کمائی کے حوالے سے مؤثر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے ٹک ٹاکرز کی بھاری آمدن پر ٹیکس قوانین کے اطلاق سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران انعامات کی تقسیم کے لیے مقررہ وقت سے قبل دروازے کھولے جانے پر ہجوم میں دھکم پیل شروع ہوگئی تھی۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 30 سالہ عقیل اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، جس میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث 6 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔









