قذافی: انقلاب، اقتدار اور ایک آمرانہ دور کا انجام

قذافی: انقلاب، اقتدار اور ایک آمرانہ دور کا انجام

تحریر:اسامہ ذوالفقار راحت

تاریخ کے صفحات میں کچھ حکمران ایسے گزرے ہیں جن کی شخصیت صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خطے کی سیاست، عالمی طاقتوں کے مفادات اور عوامی جذبات پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں انقلاب بھی تھا، اقتدار بھی، طاقت بھی، تنازعات بھی اور ایک ایسا انجام بھی جس نے دنیا بھر میں یہ سوال اٹھایا کہ اقتدار کی طاقت آخر انسان کو کہاں تک لے جا سکتی ہے؟

معمر قذافی نے 1969ء میں ایک فوجی انقلاب کے ذریعے لیبیا کے بادشاہ ادریس اول کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس وقت قذافی کی عمر صرف 27 برس تھی۔ انہوں نے ملک میں بادشاہت ختم کرکے ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا۔ ابتدا میں ان کی شخصیت عرب قوم پرستی، سامراج مخالف سیاست اور افریقی و عرب دنیا میں ایک نئے سیاسی تصور کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آئی۔

قذافی نے خود کو روایتی صدر یا بادشاہ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک انقلابی رہنما کے طور پر متعارف کرایا۔ ان کی سبز کتاب، جس میں ان کے سیاسی اور معاشی نظریات بیان کیے گئے، ایک ایسے نظام کی بات کرتی تھی جس میں عوام براہِ راست ریاستی معاملات میں شریک ہوں۔ مگر عملی سیاست میں وقت کے ساتھ ساتھ یہ تصور ایک انتہائی مرکزی اور شخصی اقتدار میں تبدیل ہوتا گیا۔

لیبیا تیل سے مالا مال ملک تھا اور قذافی کے دور میں تیل کی آمدنی نے ریاست کو بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کیے۔ حکومت نے تعلیم، صحت، رہائش اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں کئی منصوبے شروع کیے۔ لیبیا کے شہریوں کے لیے بعض سماجی سہولیات میں اضافہ ہوا اور ریاست نے تیل کی دولت کو عوامی منصوبوں پر خرچ کیا۔

لیکن کسی بھی حکومت کی تاریخ صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لکھی جاتی۔ قذافی کے دور پر سیاسی مخالفین کے خلاف سخت کارروائیوں، آزادیِ اظہار کی پابندیوں اور ریاستی طاقت کے استعمال کے الزامات بھی لگتے رہے۔ حکومت کے ناقدین کا مؤقف تھا کہ ملک میں حقیقی سیاسی مقابلے اور اختلافِ رائے کے لیے گنجائش محدود ہوتی گئی۔

قذافی کی خارجہ پالیسی بھی ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہی۔ کبھی وہ عرب دنیا کے ساتھ اتحاد کی کوشش کرتے، کبھی افریقہ میں اپنا اثر بڑھاتے اور کبھی مغربی طاقتوں کے سامنے سخت مؤقف اختیار کرتے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ لیبیا کے تعلقات کئی برس تک کشیدگی کا شکار رہے۔

1980ء اور 1990ء کی دہائی میں لیبیا پر بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ بڑھا۔ خاص طور پر لاکربی بم دھماکے کے معاملے نے لیبیا کو عالمی سیاست میں مزید تنہائی کی طرف دھکیل دیا۔ بعد میں قذافی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مغربی ممالک اور لیبیا کے درمیان تعلقات معمول پر آتے دکھائی دیے۔

یہ تبدیلی اس بات کی مثال تھی کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن کے بجائے مفادات زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جو قذافی کبھی مغربی دنیا کے سخت ناقد تھے، انہی کے ساتھ بعد میں سفارتی روابط بحال ہوئے اور کئی ممالک نے لیبیا کے ساتھ دوبارہ معاشی تعلقات قائم کیے۔

مگر قذافی کا سب سے بڑا امتحان 2011ء میں آیا۔

عرب دنیا میں حکومتوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں تو ان کی لہر لیبیا تک بھی پہنچی۔ بن غازی سمیت مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے۔ حکومت نے احتجاج کو روکنے کے لیے طاقت استعمال کی اور صورتحال تیزی سے مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی۔

اس کے بعد لیبیا میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کی منظوری دی، جس کے بعد نیٹو کی فضائی کارروائیوں نے قذافی حکومت کے خلاف جنگ کا رخ تبدیل کردیا۔

یہاں تاریخ کا ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے لیبیا کے عوام کو ایک سخت حکومت سے نجات دلائی یا اس نے ایک ریاستی نظام کو کمزور کرکے ایک طویل عدم استحکام کی بنیاد رکھ دی؟

اس سوال کا جواب آج بھی مختلف سیاسی حلقے مختلف انداز میں دیتے ہیں۔ ایک طرف قذافی مخالفین کا کہنا تھا کہ ان کا نظام سیاسی آزادیوں کو محدود کرتا تھا اور عوام کو حقیقی سیاسی اختیار حاصل نہیں تھا۔ دوسری طرف قذافی کے حامیوں اور بعض تجزیہ کاروں نے بعد کے برسوں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خاتمے کے بعد لیبیا ایک مضبوط مرکزی ریاست سے محروم ہوگیا اور ملک مختلف مسلح گروہوں اور سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔

اکتوبر 2011ء میں قذافی کا اقتدار اپنے اختتام کو پہنچا۔ سرت کے قریب انہیں باغی جنگجوؤں نے گرفتار کیا اور اس کے بعد وہ ہلاک ہوگئے۔ یوں تقریباً 42 سال تک لیبیا کی سیاست پر چھائے رہنے والے حکمران کا دور اچانک ختم ہوگیا۔

قذافی کے خاتمے کے بعد لیبیا میں وہ سیاسی استحکام پیدا نہ ہوسکا جس کی بہت سے لوگوں کو امید تھی۔ مختلف گروہوں، حکومتوں اور مسلح دھڑوں کے درمیان طاقت کی کشمکش نے ملک کو طویل عرصے تک متاثر کیا۔ اس صورتحال نے دنیا کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھا: کسی حکمران کا خاتمہ اور ایک ریاست کا مستحکم مستقبل، کیا دونوں ایک ہی چیز ہیں؟

قذافی کی شخصیت کو صرف ایک لفظ میں بیان کرنا شاید تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ وہ ایک طرف انقلابی فوجی افسر تھے جنہوں نے بادشاہت کا خاتمہ کیا، عرب اور افریقی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور تیل کی دولت سے ریاستی منصوبوں کو وسعت دی۔ دوسری طرف ان کا اقتدار طویل، مرکزی اور سخت گیر تھا اور سیاسی مخالفین کے ساتھ ریاستی رویے پر شدید اعتراضات سامنے آتے رہے۔

قذافی کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والا حکمران اگر اداروں کے بجائے اپنی ذات کے گرد نظام تشکیل دے دے تو اس کے بعد ریاست کے مستقبل کا سوال بہت پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ مضبوط شخص اور مضبوط ریاست میں فرق ہوتا ہے۔ شخص طاقتور ہوسکتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط بنانے کے لیے اداروں، قانون، سیاسی عمل اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج جب ہم قذافی کے دور اور اس کے بعد کے لیبیا کو دیکھتے ہیں تو ایک تلخ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے: حکومتیں ختم ہوسکتی ہیں، حکمران مر سکتے ہیں، مگر ریاستی بحران اگر اداروں میں منتقل ہوجائے تو اس کے اثرات نسلوں تک رہ سکتے ہیں۔

قذافی تاریخ کا ایک کردار ہیں، مگر ان کی داستان صرف ماضی کی داستان نہیں۔ یہ ہر اس معاشرے کے لیے ایک سوال ہے جہاں اقتدار، عوام، اداروں اور ریاست کے درمیان توازن کمزور پڑ جائے۔

تاریخ شاید قذافی کو نہ مکمل ہیرو قرار دے گی اور نہ صرف ولن۔ تاریخ ان کے دور کے فیصلوں، کامیابیوں، ناکامیوں، تنازعات اور ان کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو ایک ساتھ دیکھے گی۔ اصل سبق شاید یہی ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل صرف ایک حکمران کی طاقت سے محفوظ نہیں ہوتا؛ ریاستیں مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

Leave a reply