
مون سون کے موسم میں بارش کا پانی، نمی اور زیادہ دیر تک گیلے جوتے یا موزے پہننے سے پاؤں میں خارش، جلن، سرخی اور دانے نکلنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر ان علامات پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بعض اوقات انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔
ہلکی نوعیت کی خارش یا جلن میں چند گھریلو طریقے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ پاؤں کو پہلے صاف پانی سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں، پھر ناریل کا تیل لگائیں، جس میں موجود قدرتی خصوصیات جلد کو نرم رکھنے اور جراثیم کی افزائش کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اگر خارش کے ساتھ جلن بھی محسوس ہو رہی ہو تو تازہ ایلو ویرا جیل متاثرہ جگہ پر لگانے سے ٹھنڈک اور سکون مل سکتا ہے۔ اسی طرح نیم کے پتوں کا پیسٹ بھی معمولی خارش اور جلدی مسائل میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
شدید خارش یا ہلکی سوجن کی صورت میں صاف کپڑے میں لپیٹی ہوئی برف سے تقریباً 10 منٹ تک کولڈ کمپریس کیا جا سکتا ہے۔ برف کو براہِ راست جلد پر لگانے سے گریز کریں۔ اگر قدرتی اشیا دستیاب نہ ہوں تو معیاری موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بارش میں بھیگنے کے بعد فوراً خشک جوتے اور موزے پہننا، روزانہ صاف موزے استعمال کرنا، گیلے جوتے دوبارہ نہ پہننا اور ہوا گزرنے والے جوتوں کا انتخاب کرنا مفید احتیاطی تدابیر ہیں۔ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں اینٹی فنگل پاؤڈر بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
اگر خارش کئی دن تک برقرار رہے، شدید سوجن، پیپ، زخم، تیز درد، بخار یا متاثرہ حصہ تیزی سے پھیلنے لگے تو خود علاج کرنے کے بجائے جلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بعض صورتوں میں باقاعدہ طبی علاج یا اینٹی فنگل ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ گھریلو طریقے صرف ہلکی اور ابتدائی علامات میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں مستند طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔









