
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آٹھ رہنماؤں کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق زیرِ تحویل رہنماؤں کو ممکنہ خطرات اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر حفاظت میں رکھا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کسی سیاسی رہنما کی باضابطہ گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری اکرام کھٹانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
پارٹی رہنما کے مطابق صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے حفاظتی تحویل میں لیے گئے رہنماؤں میں سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی، جنید اکبر اور علی امین گنڈاپور کے نام بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں صوبائی کابینہ تحلیل کردی گئی ہے اور انتظامی معاملات نگران انتظام کے سپرد کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس اور پی ٹی آئی کے مؤقف میں فرق ہے۔ پولیس باضابطہ گرفتاریوں کی تردید کررہی ہے، جبکہ پارٹی متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کررہی ہے۔ اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔









