حوثی حملوں کا خدشہ، سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی مزید سخت، میزائل ذخائر میں کمی کا انکشاف

0
1
حوثی حملوں کا خدشہ، سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی مزید سخت، میزائل ذخائر میں کمی کا انکشاف

ریاض: سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے تناظر میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی نے دفاعی حکمت عملی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود حفاظتی انتظامات کے تحت جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ولی عہد کےہمراہ خصوصی سیکیورٹی اہلکارتعینات رہتے ہیں، جبکہ انکی آمد و رفت ایسے محفوظ محلات تک محدود کردی گئی ہے جہاں بنکرز سمیت حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی تعداد میں کمی سعودی عرب کے فضائی دفاع کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ملک کے وسیع رقبے، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو مؤثر تحفظ فراہم کرنا اس صورت حال میں مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی سعودی عرب کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم دفاعی اخراجات میں اضافہ اور سیکیورٹی خدشات ان منصوبوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حوثیوں سے لاحق خطرات کے بارے میں اندازوں اور دفاعی تیاریوں پر اٹھنے والے بھاری اخراجات نے سعودی عرب کے لیے نئی مشکلات پیدا کی ہیں۔

موجودہ صورت حال میں سعودی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج ملک کی اہم تنصیبات اور اعلیٰ حکام کی حفاظت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے منصوبوں کو بھی جاری رکھنا ہے۔

Leave a reply