دہشت گردی کے خلاف تعاون ترجیح ہے، پی ٹی آئی کے دھرنے پر اعتراض نہیں: محسن نقوی

0
8
دہشت گردی کے خلاف تعاون ترجیح ہے، پی ٹی آئی کے دھرنے پر اعتراض نہیں: محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی روک تھام اور امن و امان کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن متعدد رابطوں کے باوجود مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

وزیر داخلہ کے مطابق دھرنا مؤخر کرنے کی شرط پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آئی تھی، وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی سے دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر مرکوز ہے۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی

محسن نقوی نے بتایا کہ لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مختلف معاملات پر بات چیت جاری تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا تاکہ معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے۔

ان کے مطابق مذاکرات کے دوران مجوزہ دستاویز میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کی گئی متعدد تجاویز کو بھی تسلیم کیا گیا۔ تاہم، آخری مرحلے میں نیا مسودہ سامنے آنے کے بعد اتفاق رائے قائم نہ رہ سکا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان پر تشویش

محسن نقوی نے صوبے کی سیکیورٹی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں حالات خراب ہیں اور کئی علاقوں میں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران صوبے میں 518 پولیس اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس کی استعداد بڑھانے، متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضروری وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو ہوئی۔ وفاقی حکومت نے پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے مذاکرات کی کوششیں

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بنانے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کوششیں کیں۔ ان کے بقول، صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور سیکیورٹی اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کو مشترکہ پالیسی اپنانا ہوگی، کیونکہ کوئی بھی حکومت تنہا اس چیلنج سے مؤثر طور پر نہیں نمٹ سکتی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی خواہش تھی کہ باہمی مشاورت سے معاملات حل ہوجائیں، لیکن مذاکرات میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔

Leave a reply