یاسین ملک کا بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

0
18
یاسین ملک کا بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

سری نگر: بھارتی حراست میں موجود کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں سے انصاف ملنے کی امید ختم ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنے خلاف جاری مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا ہے، جس میں ان کے 24 اگست کو دیے گئے تحریری بیانات کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کئی دہائیوں بعد ایک ایسے مقدمے میں ملوث کیا گیا جس کا مقصد انہیں سخت ترین سزا دلوانا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی عدالت سے سزائے موت بھی مل جائے تو وہ اسے قبول کریں گے، تاہم سزا قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات تسلیم کر لیے ہیں۔

انہوں نے 1990 میں سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے وقت وہ اس واقعے کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل سے کچھ دن قبل وہ شدید زخمی تھے۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ماضی میں بھارتی حکام کی جانب سے انہیں پاکستان کے ساتھ روابط بہتر بنانے اور پاک بھارت تعلقات میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی، تاہم بعد میں انہی رابطوں کو ان کے خلاف استعمال کیا گیا۔

انہوں نے طویل قید، تنہائی اور اہلِ خانہ سے طویل عرصے تک دور رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران انہیں اپنی والدہ، اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی سے جدائی کا سامنا رہا۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کے لیے بھی جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں بہادری سے ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

اپنی بیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے یاسین ملک نے اسے دادی کا خیال رکھنے اور ان کے دکھ کو کم کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی ہے اور اب فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔

دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے یاسین ملک کے مقدمے کو کشمیر کے سیاسی تنازع سے جوڑتے ہوئے بھارتی حکومت پر سیاسی دباؤ کے ذریعے کشمیری حریت کی آواز کو محدود کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں انسانی حقوق اور سیاسی قیدیوں سے متعلق عالمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Leave a reply