نیپال: تباہ کن سیلاب کے 9 روز بعد سرنگ سے 2 افراد زندہ برآمد

0
2
نیپال: تباہ کن سیلاب کے 9 روز بعد سرنگ سے 2 افراد زندہ برآمد

کھٹمنڈو: نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن برفانی اور مٹی کے ریلے کے نو روز بعد امدادی ٹیموں نے ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو افراد کو زندہ نکال لیا۔

دونوں کارکنوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد دارالحکومت کھٹمنڈو کے فوجی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔

یہ قدرتی آفت 26 اگست کو دریائے تریشولی کے بالائی علاقے میں پیش آئی تھی۔ گلیشیئر کے ٹوٹنے سے برف، چٹانوں اور کیچڑ کا شدید ریلا وادی میں داخل ہوا، جس کے باعث دریائے تریشولی کے کنارے قائم متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے اور کئی سرنگوں میں بڑی تعداد میں کارکن پھنس گئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زندہ بچائے جانے والے دونوں افراد کی شناخت سنجے ساہ اور کبیر مہارژن کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں اپر تریشولی تھری اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں مکینیکل شعبے سے وابستہ تھے۔

ریسکیو کے بعد فوجی ڈاکٹروں نے سنجے ساہ کا موقع پر معائنہ کیا اور انہیں آکسیجن فراہم کی۔ بعد ازاں دونوں کارکنوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ کبیر مہارژن کے ہاتھ پاؤں حرکت نہ کرنے کی اطلاع ہے، جبکہ سنجے ساہ کی حالت نسبتاً بہتر بتائی گئی ہے۔

سنجے ساہ نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ سرنگ میں محصور رہنے کے دوران وہ دعائیہ کلمات پڑھتے رہے۔ ان کے مطابق سرنگ کے اندر مزید کئی افراد کے زندہ ہونے کا امکان موجود ہے، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے تلاش کا عمل مزید تیز کردیا ہے۔

کبیر مہارژن کے اہل خانہ نے میڈیا رپورٹس کے ذریعے ان کے زندہ ملنے کی خبر سنی۔ ان کے بھائی امیر مہارژن نے بتایا کہ خبر سن کر خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

نیپالی فوج اور پولیس کی نگرانی میں متاثرہ سرنگوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں میں بھارت، چین اور جنوبی کوریا کے ماہرین بھی معاونت کر رہے ہیں۔ سرچ ٹیمیں ہیلی کاپٹروں، بھاری مشینری اور جدید تکنیکی ذرائع سے مدد لے رہی ہیں، جبکہ ماہرین دور بیٹھ کر بھی امدادی کارکنوں کو رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق تباہی سے نیپال میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق مالی نقصان تقریباً 387.5 ارب نیپالی روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہزاروں گھر متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 ہزار گھروں کی دوبارہ تعمیر درکار ہوگی۔ دوسری جانب متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں اور امدادی ٹیمیں مختلف علاقوں میں تلاش کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سرحد پار تبت میں بھی اس قدرتی آفت کے باعث جانی نقصان اور بڑی تعداد میں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ نیپال میں لاپتا غیر ملکی شہریوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بتائی جارہی ہے، جن میں سیاح اور زائرین شامل ہیں۔

دو کارکنوں کا نو روز بعد زندہ ملنا امدادی ٹیموں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن بن گیا ہے، جبکہ سرنگوں میں موجود دیگر ممکنہ زندہ افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔

Leave a reply