سانحہ پمز: نومولود بچوں کی ہلاکت پر سوالات اٹھ گئے، وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ

0
36
سانحہ پمز: نومولود بچوں کی ہلاکت پر سوالات اٹھ گئے، وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد حکومتی انتظامات، فائر سیفٹی اور اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

حکام کے مطابق آگ بدھ کی صبح گائنی وارڈ کی نرسری میں لگی، جہاں اس وقت 15 نومولود بچے موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

آتشزدگی کی وجہ سے متعلق مختلف اداروں کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ایئر کنڈیشن کے کمپریسر میں اسپارک کو آگ لگنے کی ممکنہ وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے کی ابتدائی رپورٹ میں حادثے کی وجہ نرسری میں انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن مانیٹرنگ ڈیوائس کے پھٹنے کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ کے بعد دھواں پائپ لائن کے ذریعے بچوں تک پہنچا جبکہ آکسیجن کی بندش کو اموات کی بڑی وجوہات میں شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں اسپتال کے فائر سیفٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو بھی ناکافی قرار دیا گیا۔ امدادی کارروائی کے دوران فائر فائٹرز کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور بچوں کو باہر نکالنے کے لیے بعض مقامات پر جالیاں اور شیشے توڑنے پڑے۔

پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے تاہم اسپتال میں فائر سیفٹی نظام کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ عملے نے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔

واقعے کے بعد وفاقی وزیرِ صحت کو صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کا احتساب کے لیے خود کو پیش کرنا پہلے ہی واضح ہے، جبکہ ان کے مطابق وہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت ہی تفصیلات بیان کرسکتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران اہلِ خانہ کے احتجاج اور صحافیوں کے سوالات کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داری طے کرنے اور وفاقی وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بھی کہا کہ جو لوگ اس سانحے کے ذمہ دار ہیں، انہیں اپنے عہدوں سے الگ ہوجانا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بھی وزیرِ صحت کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعے کو حکومتی بدانتظامی قرار دیا، جبکہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مصطفیٰ کمال سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

حکومت نے واقعے کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے کی تحقیقات کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔

تحقیقات کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ سانحے کی اصل وجہ کیا تھی، فائر سیفٹی کے انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی اور بچوں کی جانیں بچانے کے لیے موجود نظام نے بروقت اور مؤثر انداز میں کام کیوں نہیں کیا۔

Leave a reply