پمز سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

0
0
پمز سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری صحت، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 اگست کو پمز کے گائناکولوجی وارڈ میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اسباب اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ درخواست گزار نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کی فرانزک جانچ کرانے کی بھی استدعا کی ہے۔

عدالت سے پمز کے فائر الارم اور دیگر حفاظتی نظام کا جامع آڈٹ کرانے کی درخواست بھی کی گئی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثے کے دوران حفاظتی انتظامات کس حد تک مؤثر رہے اور کسی تکنیکی خرابی یا غفلت کا تعین ہو سکے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے بعد ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے متعدد نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعے میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جبکہ ریسکیو ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی تھی۔

واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی تھیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

Leave a reply