
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک اس وقت شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں ہیں، جہاں کروڑوں افراد غیر معمولی بلند درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کے دورانیے میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ انسانی جسم کے لیے روزمرہ سرگرمیوں میں کتنا درجہ حرارت خطرناک سمجھا جا سکتا ہے۔ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اس کا جواب صرف درجہ حرارت پر نہیں بلکہ فضا میں موجود نمی پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق زیادہ نمی والے ماحول میں انسانی جسم کو پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ایک پرانی تحقیق میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ مرطوب حالات میں تقریباً 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد کے قریب ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے زیادہ گرمی میں جسم حرارت خارج کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ہونے والی تحقیق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صرف زیادہ درجہ حرارت ہی نہیں بلکہ نمی کا تناسب بھی صحت کے لیے اہم خطرہ ہے۔ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تجرباتی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب درجہ حرارت پر انسانی جسم کو حرارت کنٹرول کرنے میں شدید دشواری پیش آتی ہے، خاص طور پر جب نمی زیادہ ہو۔
تحقیق کے دوران مختلف درجہ حرارت اور نمی کے ماحول میں بالغ افراد کا مشاہدہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے، جسم کا میٹابولزم بھی متاثر ہوتا ہے اور پسینے کے باوجود اندرونی حرارت کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
امریکی تحقیق کے مطابق زیادہ نمی (تقریباً 50 فیصد یا اس سے زیادہ) کے ساتھ نسبتاً کم درجہ حرارت بھی جسم پر زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض اوقات 30 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی جسم کی قدرتی ٹھنڈک کا نظام متاثر ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خشک موسم میں انسان نسبتاً زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے کیونکہ پسینہ آسانی سے بخارات بن کر جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے، لیکن مرطوب ماحول میں یہی عمل متاثر ہو جاتا ہے جس سے گرمی زیادہ خطرناک محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد پر گرمی کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں، اس لیے آئندہ تحقیق میں اس گروہ کو خصوصی طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ بہتر حفاظتی اقدامات تیار کیے جا سکیں۔







