
اسلام آباد: دفترِ خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کے عمل میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔ پاکستان خلیج، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ تمام متعلقہ فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور دیگر سفارتی اقدامات کے تحت بات چیت کا عمل بحال کریں تاکہ خطے میں بحری تجارت اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، اردن اور کویت کے حکام سے علاقائی صورتحال پر رابطے کیے۔ پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کسی تیسرے ملک تک نہیں پھیلنا چاہیے اور پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
دفترِ خارجہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک غیر ملکی دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق ہے۔
بھارت سے متعلق سوالات پر ترجمان نے پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہی حل ہے۔
افغانستان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر نہیں کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں ہونے والے آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے لیے تمام رکن ممالک، بشمول بھارت، کو دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکھ یاتریوں کے لیے بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے گئے ہیں جبکہ پاک بھارت سفارتی ویزوں کا اجرا معمول کا انتظامی عمل ہے۔









