جاپان پھر لرز اٹھا، تاریخ کے خوفناک زلزلوں کی تباہ کن یادیں تازہ

0
15
جاپان پھر لرز اٹھا، تاریخ کے خوفناک زلزلوں کی تباہ کن یادیں تازہ

ٹوکیو: جاپان میں حالیہ شدید زلزلے کے بعد ملک کی تاریخ کے چند بدترین زلزلے دوبارہ موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زمینی پلیٹوں کی حرکت کے باعث اکثر زلزلے اور سونامی آتے رہتے ہیں، تاہم ماضی میں بعض آفات نے غیر معمولی تباہی مچائی۔
تازہ اطلاعات کے مطابق جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں 7.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں عمارتوں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس واقعے نے 2011 کے توہوکو زلزلے اور سونامی کی یاد تازہ کر دی، جس میں 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے تھے اور ملک کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
تاریخی اعتبار سے 1923 کا عظیم کانتو زلزلہ جاپان کی سب سے ہولناک قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً 8 شدت کے اس زلزلے نے ٹوکیو، یوکوہاما اور گرد و نواح کے علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ زلزلے کے بعد لگنے والی آگ نے تباہی میں مزید اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے اور لاکھوں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
اس سے قبل 1896 میں سانریکو کے ساحلی علاقے کے قریب آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد بلند سونامی کی لہروں نے ساحلی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس سانحے میں کم از کم 22 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور بعد ازاں اس واقعے نے سونامی سے متعلق سائنسی تحقیق میں اہم کردار ادا کیا۔
1707 میں آنے والا ہوئے زلزلہ بھی جاپان کی تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی شدت 8.7 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے جنوبی جاپان کے وسیع علاقے متاثر ہوئے۔ زلزلے کے بعد آنے والی سونامی نے مزید تباہی مچائی، جبکہ چند ہفتوں بعد ماؤنٹ فوجی آتش فشاں بھی متحرک ہو گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق جاپان بحرالکاہل کے “رِنگ آف فائر” میں واقع ہے، جہاں کئی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ اسی جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے جاپان دنیا کے زلزلہ خیز ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر ملک میں زلزلہ مزاحم تعمیرات، جدید وارننگ سسٹمز اور ہنگامی امدادی انتظامات کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔

Leave a reply