خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا امکان

0
13
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا امکان

پشاور: خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر صدر مملکت کی جانب سے آئینی طور پر حکم دیا گیا تو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہنے کا بھی مشورہ دیا۔

اس حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سردار فتح اللہ خان میاں خیل، رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور احمد کنڈی بھی شریک ہوئے۔

ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبے میں جاری سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی حکام کی جانب سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس مطلوبہ اختیارات نہیں تو اسے اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق طریقہ کار اور شرائط واضح ہیں۔ ان کے مطابق اگر آئینی تقاضے پورے ہوں اور حالات اس اقدام کا تقاضا کریں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر راج یا دیگر حکومتی اقدامات سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دباؤ کے باعث اپنے سیاسی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وزیراعلیٰ نے صوبے کی سیکیورٹی پالیسی پر وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجویز کردہ سیکیورٹی پالیسی پر عمل کیا جائے تو مختصر مدت میں صوبے کے امن و امان میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

پولیس کے وسائل سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو ضروری وسائل فراہم کیے ہیں، تاہم صرف اضافی وسائل سے سیکیورٹی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق دیرپا امن کے لیے بنیادی سیکیورٹی پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔

یوں خیبر پختونخوا میں ایک طرف امن و امان کی صورتحال اہم سیاسی موضوع بنی ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات اور سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات بھی نمایاں ہیں۔

Leave a reply