
اسلام آباد: پاکستان نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی جانب سے ملک کے ایٹمی پروگرام پر نشر کی گئی دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ مذکورہ دستاویزی فلم کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور سیکیورٹی نظام سے متعلق غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں اور میڈیا پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پر مکمل اعتماد ہے، جو عالمی حفاظتی معیار کے مطابق کام کر رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب افغانستان کے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ڈی ڈبلیو کی اس دستاویزی فلم کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی حالات کو ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
50 منٹ پر مشتمل یہ دستاویزی فلم 25 جولائی کو ڈی ڈبلیو کے یوٹیوب چینل پر جاری کی گئی تھی، جس کے بعد پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر ردعمل سامنے آیا۔
ماہرین اور بعض مبصرین نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم میں پاکستان کے ایٹمی سیکیورٹی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور حفاظتی اقدامات کو مکمل تناظر میں پیش نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے کی سیکیورٹی صورتحال، خصوصاً جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستانی حکام اور ناقدین کے مطابق ملک کا ایٹمی نظام سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے تحت کام کرتا ہے، جبکہ ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو حقائق کی بنیاد پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔









