مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے: شی جن پنگ

چینی صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کیلئے مشترکہ کردار ادا کریں۔
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی سے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ خطے میں مزید تناؤ عالمی برادری کے مفاد میں نہیں۔
شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین خطے میں امن اور استحکام کیلئے برکس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق برکس ممالک کو عالمی معاملات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کیلئے قیادت کرنی چاہیے۔
چینی صدر نے کہا کہ برکس کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک کیلئے خود انحصاری، ترقی اور جدت کے فروغ کی مثال بننا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔
برکس کی توسیع
برکس کا آغاز برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا سے ہوا تھا، تاہم بعد میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت مزید ممالک اس اتحاد میں شامل ہوئے۔
چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین آئندہ سال برکس کی صدارت سنبھالے گا اور 19ویں برکس سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔
شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات
سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے چین اور بھارت کے تعلقات کو طویل المدتی اور اسٹریٹجک تناظر میں آگے بڑھانے پر بات کی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ ترقی کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ چینی صدر کا بھارت کا یہ دورہ کئی برس بعد ہوا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات سمیت کئی معاملات اب بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے اثرات تجارت اور دیگر دوطرفہ معاملات پر بھی پڑے۔
برکس اجلاس میں عالمی تنازعات زیر بحث
برکس اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے بحران کے علاوہ یوکرین جنگ، عالمی تجارت اور توانائی کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں۔ اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی صدر نے بھی خطے میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور امریکا و اسرائیل کی عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال برکس ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کرسکتی ہے، کیونکہ تنظیم کے ارکان کے علاقائی اور عالمی معاملات پر مؤقف مکمل طور پر یکساں نہیں۔
بھارت ایک جانب امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے روس اور ایران کے ساتھ بھی روابط کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اس کی توانائی کی ضروریات بھی عالمی سفارتی پالیسی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔









