برکس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، غزہ جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی حمایت

0
16
برکس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، غزہ جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی حمایت

نئی دہلی: برکس ممالک نے اپنے سربراہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں فوری جنگ بندی، فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت پر زور دیا ہے۔

اعلامیے میں غزہ کی آبادی یا جغرافیائی حدود میں کسی بھی قسم کی مستقل تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کو مسترد کیا گیا۔ برکس ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں کی بھی مخالفت کی اور شہر کے مذہبی و مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا۔

مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

برکس رہنماؤں نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ رہنماؤں نے جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی حالات میں جوہری تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

اعلامیے میں یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور اضافی محصولات کے نفاذ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کر رہے ہیں، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما اجلاس میں شریک ہیں۔

اجلاس کے دوران مختلف رکن ممالک کے درمیان علاقائی تنازعات پر اختلافات کے باوجود مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارت کی جانب سے ارکان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی مشاورت بھی کی گئی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس سے خطاب میں عالمی سطح پر اتحاد اور اتفاق رائے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی فیصلوں میں تمام ممالک کو مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ گروپ عالمی سیاست اور معیشت میں ابھرتی ہوئی طاقتوں کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

Leave a reply