
اسلام آباد میں انسانی پلیسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت اور اسمگلنگ کے کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انسانی پلیسنٹا کو غیر قانونی طور پر مختلف کاسمیٹک اور اینٹی ایجنگ مصنوعات میں استعمال کیا جا رہا تھا، جنہیں بعد میں بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔
تحقیقات کرنیوالے اداروں کاکہنا ہے کہ اس نیٹورک کے ذریعے مبینہ طور پرپلیسنٹاکولیبارٹری پروسیسنگ کےبعد اینٹی ایجنگ انجیکشنز اور بیوٹی پراڈکٹس کی تیاری میں استعمال کیاجاتاہے، ان مصنوعات کیقیمت مقامی مارکیٹ میں لاکھوں روپے تک بتائی جارہی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی پلیسنٹا حمل کے دوران بننے والا ایک قدرتی عضو ہے جو بچے کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم طبی ضوابط کے تحت اسے عام طور پر خطرناک طبی فضلہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی محفوظ تلفی لازمی ہوتی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ٹشوز کی خرید و فروخت یا انہیں کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنا پاکستان میں غیر قانونی ہے اور اس پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی اداروں نے مختلف شہروں میں اس مبینہ نیٹ ورک سے منسلک افراد کی نشاندہی کی ہے جبکہ ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز کے کردار اور سرکاری اہلکاروں کے ممکنہ ملوث ہونے کی بھی جانچ جاری ہے۔
ابتدائی معلومات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بڑی مقدار میں پلیسنٹا بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے حکام نے روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔









