کراچی: انمول عرف پنکی تین منشیات مقدمات میں بری

کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے انمول عرف پنکی کو گزری تھانے میں درج منشیات کے تین مقدمات میں بری کردیا۔ عدالت نے ملزمہ کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم بھی جاری کردیا۔
سماعت کے دوران دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ مقدمات میں شریک ملزمان پہلے ہی عدالت سے بری ہوچکے ہیں۔ وکیل صفائی کے مطابق انمول پنکی کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ان بیانات کی بنیاد پر سزا کا امکان باقی نہیں رہا۔
پراسیکیوشن بھی سماعت کے دوران ملزمہ کے خلاف مطلوبہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد تینوں مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرلیں اور ہدایت کی کہ اگر ملزمہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب یا نامزد نہیں تو اسے رہا کردیا جائے۔
یہ مقدمات گزری تھانے میں 2020، 2021 اور 2022 کے دوران درج کیے گئے تھے۔
انمول پنکی کو رواں سال مئی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے مبینہ طور پر کوکین، پستول اور ایک کیمیکل برآمد ہوا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول پنکی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں منشیات، غیر قانونی اسلحے اور دیگر جرائم کی دفعات شامل رہی ہیں۔ تاہم ان مقدمات میں سے کئی کی عدالتی کارروائی مختلف مراحل میں جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس سمیت مختلف تھانوں میں مقدمات درج رہے ہیں۔
دوسری جانب بغدادی تھانے میں درج ایک مقدمے میں بھی حالیہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعہ تبدیل کرکے الزام کو قتل بالسبب کے طور پر پیش کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی کیمیکل رپورٹ میں موت کی وجہ نشہ قرار دی گئی، جس کے بعد قتل کی دفعہ میں تبدیلی کی گئی۔
عدالت سے تین مقدمات میں بریت کے باوجود انمول پنکی کو دیگر زیرسماعت مقدمات کا سامنا ہے۔ ان مقدمات میں منشیات سے متعلق کیسز کے علاوہ دیگر نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں، جن کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتیں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کریں گی۔









