
حمل کے دوران بعض خواتین کو بھولنے، توجہ مرکوز کرنے اور روزمرہ کے معمولی کام یاد رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ کسی کام سے کمرے میں جاکر مقصد بھول جانا، چیز رکھ کر جگہ یاد نہ رہنا یا گفتگو کے دوران اچانک بات کا تسلسل ٹوٹ جانا اسی کیفیت کی عام مثالیں ہیں، جسے عام طور پر ’ممی برین‘ یا ’پریگنینسی برین‘ کہا جاتا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں ماہرین نے اس کیفیت کے ممکنہ حیاتیاتی پس منظر کے بارے میں اہم شواہد پیش کیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق حمل کے دوران ایسٹروجن ہارمون کی سطح میں نمایاں اضافہ دماغ کے ان حصوں کے درمیان رابطے کو متاثر کرسکتا ہے جو یادداشت سے متعلق کام انجام دیتے ہیں۔
محققین نے ابتدائی طور پر چوہوں پر تجربات کیے اور حمل کے دوران پیدا ہونے والی ہارمونل صورتحال سے مشابہ حالات پیدا کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسٹروجن کی بلند سطح کے دوران چوہوں کی یادداشت عارضی طور پر متاثر ہوئی۔
تحقیق میں دماغ کے ہائپوتھیلمس اور ہپوکیمپس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ہائپوتھیلمس جسم کے متعدد اہم افعال کو منظم کرتا ہے، جبکہ ہپوکیمپس یادداشت کی تشکیل اور معلومات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین کے مطابق زیادہ ایسٹروجن ہائپوتھیلمس میں موجود مخصوص خلیوں کی سرگرمی بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہپوکیمپس کی سرگرمی متاثر ہوتی ہے اور یادداشت سے متعلق بعض صلاحیتوں میں عارضی کمی واقع ہوسکتی ہے۔
تجربات میں جب ہائپوتھیلمس اور ہپوکیمپس کے درمیان اس مخصوص عصبی راستے کو روکا گیا تو چوہوں کی یادداشت میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے برعکس اس راستے کو مصنوعی طور پر متحرک کرنے پر یادداشت دوبارہ متاثر ہوئی۔
سائنسدانوں نے مزید مشاہدہ کیا کہ ہائپوتھیلمس کے مخصوص خلیوں سے ایسٹروجن کو شناخت کرنے والے ریسیپٹرز ختم کرنے سے بھی حمل اور ہارمون سے وابستہ یادداشت کی خرابی کے آثار ختم ہوگئے۔
خواتین میں بھی یادداشت کے ٹیسٹ
چوہوں پر ہونے والے نتائج کو انسانوں پر براہ راست لاگو نہ کرنے کے پیش نظر محققین نے خواتین کی یادداشت کا بھی جائزہ لیا۔ اس مرحلے میں 70 خواتین، جن میں حاملہ اور غیر حاملہ خواتین شامل تھیں، مختلف یادداشت کے ٹیسٹوں سے گزریں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق حمل کے آخری مرحلے میں خواتین نے یادداشت کے بعض مخصوص ٹیسٹوں میں نسبتاً کم کارکردگی دکھائی۔ خون میں ایسٹروجن کی زیادہ سطح اور بعض یادداشت کے نتائج کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ ایسٹروجن اور ہائپوتھیلمس سے ہپوکیمپس تک جانے والا مخصوص راستہ انسانوں میں براہ راست یادداشت کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔ خواتین سے حاصل ہونے والے نتائج فی الحال ہارمون کی سطح اور یادداشت میں تبدیلی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حمل کے دوران ہونے والی یہ ذہنی تبدیلیاں عموماً عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں اور انہیں مجموعی ذہانت میں کمی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ بعض خواتین میں ان کا روزمرہ زندگی، کام اور خود اعتمادی پر اثر ضرور پڑ سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق نے حمل کے دوران ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں اور دماغی سرگرمی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کیا ہے، تاہم اس عمل کی مکمل وضاحت کے لیے مزید انسانی تحقیق ضروری ہے۔









