
چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں، جہاں عام افراد اپنے چہروں کو اے آئی سے تیار کیے جانے والے ڈراموں، اشتہارات اور ویڈیو گیمز کے لیے لائسنس دے کر رقم حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے لیے ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سامنے آئے ہیں جو عام لوگوں کو اے آئی پروڈکشنز تیار کرنے والی کمپنیوں سے جوڑتے ہیں۔ افراد اپنی شناخت کی تصدیق کے بعد اپنا ڈیجیٹل پروفائل بناتے ہیں، جس میں موجود چہرے کو پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق منتخب کر سکتے ہیں۔
چین کے شہر شین ژین میں قائم ایک پلیٹ فارم نے بھی لوگوں کو اپنے چہروں کی ڈیجیٹل لائسنسنگ کا موقع فراہم کرنا شروع کیا ہے۔ اس عمل میں فرد کو ہر پروڈکشن میں خود اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا چہرہ ڈیجیٹل کردار کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
حقیقی چہروں کی ضرورت کیوں؟
اے آئی بظاہر بڑی تعداد میں مصنوعی چہرے تیار کر سکتی ہے، تاہم پروڈیوسرز بعض اوقات ایسے حقیقی چہروں کو ترجیح دیتے ہیں جو منفرد، مخصوص یا زیادہ قدرتی محسوس ہوں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پروڈیوسرز نوجوان اور خوب صورت افراد کے ساتھ ایسے منفرد چہرے بھی تلاش کرتے ہیں جو کسی کردار کے لیے زیادہ موزوں ہوں۔ بزرگ افراد کے چہروں کی بھی بعض پروڈکشنز میں طلب سامنے آئی ہے۔
تاہم ہر حقیقی چہرے کی تجارتی قدر یکساں نہیں ہوتی۔ بعض ماہرین کے مطابق عام شکل و صورت والے چہروں کو اے آئی کے ذریعے نسبتاً آسانی سے تخلیق کیا جا سکتا ہے، جبکہ معروف شخصیات کے چہروں کی قیمت ان کی شہرت اور شناخت کی وجہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
چند دنوں میں سیکڑوں ڈالر آمدنی
اس نئی مارکیٹ میں حاصل ہونے والی رقم کے لیے کوئی ایک مقررہ نرخ موجود نہیں۔ معاوضہ پروڈکشن، استعمال کی نوعیت، مدت اور معاہدے کی شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
ایک چینی بینک ملازم نے مبینہ طور پر صرف تین دن کے دوران ایک اشتہاری کمپنی کی جانب سے اپنے پورٹریٹ کے سات مرتبہ استعمال کے عوض تقریباً 2,500 یوآن حاصل کیے، جو اس وقت کے حساب سے تقریباً 373 امریکی ڈالر بنتے ہیں۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق بعض کمپنیوں نے افراد کو اے آئی سے تیار ہونے والی ہر قسط کے لیے تقریباً 99 سے 500 یوآن تک ادا کیے۔
اصل سوال آمدنی نہیں، شناخت پر اختیار ہے
چہرے کی ڈیجیٹل لائسنسنگ کے بڑھتے رجحان نے رازداری اور رضامندی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
کسی شخص کو اپنے چہرے کو ایک مخصوص اشتہار یا ڈرامے میں استعمال کرنے کی اجازت دینا اور اسی چہرے کے ڈیٹا کو مستقبل میں اے آئی ماڈل کی تربیت یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا دو مختلف معاملات ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے معاہدوں میں یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ چہرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا، لائسنس کتنے عرصے تک مؤثر رہے گا، اسے مزید کن منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور آیا صارف مستقبل میں اپنا ڈیجیٹل مواد واپس لینے یا اس کے استعمال کو محدود کرنے کا حق رکھتا ہے۔
اے آئی نے تفریحی صنعت کا طریقہ بدل دیا
چین میں اے آئی سے تیار ہونے والے مختصر ڈراموں کی صنعت بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اے آئی کی مدد سے اسکرپٹ، کردار اور ویڈیو پروڈکشن کے مختلف مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں، جس سے وقت اور اخراجات میں کمی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں انسانی چہرہ، آواز اور دیگر ڈیجیٹل خصوصیات بھی مستقبل میں قابلِ لائسنس اثاثوں کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
چہرہ کرائے پر دے کر رقم کمانے کا تصور بظاہر آسان آمدنی کا ذریعہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ سب سے اہم سوال یہی ہے کہ مالی فائدے کے بدلے کوئی شخص اپنی ڈیجیٹل شناخت پر کس حد تک اختیار منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔









