بغیر مشورہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال صحت کے لیے خطرناک قرار

0
40
بغیر مشورہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال صحت کے لیے خطرناک قرار

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بخار، کھانسی، نزلہ یا زکام کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی ادویات صرف مستند ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کی جانی چاہئیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے مؤثر ہوتی ہیں، جبکہ عام نزلہ، زکام اور فلو جیسی بیماریاں عموماً وائرس کے باعث ہوتی ہیں۔ اس لیے ان بیماریوں میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال فائدہ نہیں دیتا۔

انہوں نے بتایا کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا استعمال سے پیٹ درد، گیس، متلی، الٹی اور دست جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں نقصان دہ جراثیم کو بڑھنے کا موقع مل جاتا ہے، جو مزید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے سے جراثیم ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں انفیکشن کا علاج مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مدافعتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

بچوں کے حوالے سے ماہرین نے خصوصی احتیاط کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال جسم کے قدرتی دفاعی نظام اور مفید بیکٹیریا کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے بچوں کو یہ ادویات صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی دینی چاہئیں۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کریں، ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق مکمل کورس پورا کریں اور بچ جانے والی پرانی دوائیاں دوبارہ خود سے استعمال نہ کریں تاکہ ان قیمتی ادویات کی افادیت برقرار رہے اور صحت بھی محفوظ رہے۔

Leave a reply