
سعودی عرب میں میزائل حملے، دو افراد زخمی، متعدد تنصیبات کو نقصان
ریاض: یمن میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائل حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔
سعودی حکام کے مطابق یمن سے فائر کیا جانے والا میزائل جازان کے علاقے طوال میں آ گرا۔ حملے کے باعث ایک مسجد، مختلف عمارتوں اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
حوثی گروپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نجران کے علاقے شرورہ میں ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔
یمن کے اندر بھی حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ حوثی گروپ نے صوبہ تعز پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اس دعوے کے بعد جاری ہونے والی ویڈیوز میں جنگجوؤں کو فوجی گاڑیوں کے ساتھ جشن مناتے دیکھا گیا۔
یمنی حکومتی فورسز نے دوسری جانب دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوثیوں کے ایک بڑے فوجی قافلے کو فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق قافلے میں میزائل اور گولہ بارود سے لدے متعدد ٹرک شامل تھے جو المخا سے صنعاء کی جانب روانہ تھے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ممکنہ طور پر انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب عراق سے سعودی عرب کی جانب کیے گئے ڈرون حملوں کے بعد سعودی وزارتِ توانائی نے حفاظتی اقدام کے طور پر ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ڈرون حملوں کی مذمت کی، تاہم عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فوری جوابی کارروائی روک دی گئی۔
پاکستان نے بھی سعودی عرب پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
ایران نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یمن کے بحران کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے اور ایران اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
ایرانی ترجمان نے خطے میں امن کے لیے یمن کی خودمختاری کے احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے امریکا پر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں کا ذمہ دار ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اقدامات کی حمایت کرنے والے ممالک کو اس کے ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









