بجٹ 2026-27: چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس برقرار، بڑی اور لگژری گاڑیوں پر بوجھ بڑھانے کی تجویز

0
48
بجٹ 2026-27: چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس برقرار، بڑی اور لگژری گاڑیوں پر بوجھ بڑھانے کی تجویز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں عام صارفین اور کم آمدنی والے طبقے کی زیرِ استعمال چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی کے موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بڑی انجن والی اور مہنگی لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ درآمد شدہ 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ 3000 سی سی سے زائد انجن رکھنے والی گاڑیوں پر مزید زیادہ شرح سے ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق دو کروڑ روپے سے زائد قیمت کی لگژری الیکٹرک گاڑیاں بھی اس نئے ٹیکس نظام کے دائرے میں آئیں گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں کے لیے موجود ٹیکس مراعات آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رہیں گی۔ اسی طرح درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ رعایتی ٹیکس سہولیات کا مقصد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے، تاہم انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو ان مراعات سے فائدہ اٹھانے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق 2000 سی سی تک کی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر موجود 30 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔ تاہم 2000 سے 3000 سی سی تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس تجویز کے نتیجے میں بڑی ایس یو ویز، پک اپس اور لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح 3000 سی سی سے بڑے انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی 40 فیصد سے بڑھا کر 81 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دو کروڑ روپے سے کم قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر کوئی نئی ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی، جبکہ دو سے تین کروڑ روپے مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

حکام کے مطابق نئے ٹیکسوں کا اطلاق صرف ان گاڑیوں پر ہوگا جو بجٹ اقدامات کے بعد درآمد کی جائیں گی، جبکہ پہلے سے درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں پر اس کا براہِ راست اثر نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ آٹو سیکٹر سے متعلق مزید اہم فیصلے نئی آٹوموٹیو پالیسی میں سامنے آسکتے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق نئی آٹو پالیسی اس وقت وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

Leave a reply