ایران سے انخلا یا تیل پر کنٹرول؟ ٹرمپ نے نیا آپشن بتا دیا

0
0
ایران سے انخلا یا تیل پر کنٹرول؟ ٹرمپ نے نیا آپشن بتا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکا وہاں سے نکل سکتا ہے، تاہم واشنگٹن ایران میں موجود رہنے اور تیل کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے امکان پر بھی غور کرسکتا ہے۔

ٹرمپ نے آئرلینڈ میں گالف چیمپئن شپ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے مختلف امکانات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بالآخر ایران سے واپس جائے گا، تاہم اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وینزویلا کی طرز پر ایران میں موجود رہنے اور تیل سے متعلق انتظامات کرنے کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر نے اس موقع پر وینزویلا کے ساتھ ہونے والے توانائی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے امریکا کو حاصل ہونے والی آمدنی جنگ پر آنے والے اخراجات سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں امریکا ایسا ہی معاہدہ قبول کرے گا جو واشنگٹن کے مفاد میں ہو۔ ان کے مطابق امریکا کسی ایسے سمجھوتے پر رضامند نہیں ہوگا جس سے امریکا کو مناسب فائدہ حاصل نہ ہو۔

ایران جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر امید ظاہر کی کہ تنازع رواں سال ختم ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد بھی جنگ کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا میں پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات اور سپلائی لائنز کو لاحق خطرات کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی کے مستقبل سے متعلق تشویش برقرار ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مسلسل امن مذاکرات کے لیے رابطے کررہا ہے، تاہم تہران ماضی میں امریکا کی جانب سے کیے گئے ایسے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے۔

ٹرمپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے ساتھ ایران میں مستقبل کے امریکی کردار اور توانائی کے وسائل سے متعلق اپنے مفادات برقرار رکھنے کے امکانات پر بھی غور کررہا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایسی کسی پالیسی کو عملی شکل دینے کے لیے امریکا کس قسم کے معاہدے یا قانونی طریقہ کار کا سہارا لے گا۔

Leave a reply