آبنائے ہرمز پر ایران، عمان مذاکرات مؤخر، عالمی تیل منڈی میں بے چینی

0
9
آبنائے ہرمز پر ایران، عمان مذاکرات مؤخر، عالمی تیل منڈی میں بے چینی

مسقط: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ اہم سفارتی مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جانا تھا۔ عمانی وزیر خارجہ نے اجلاس ملتوی کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین کے درمیان مزید مشاورت اور اتفاقِ رائے کے لیے مذاکرات کو مؤخر کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست اور تہران و مسقط کے درمیان مشاورت کے بعد ملتوی کیا گیا، جبکہ نئی تاریخ بعد میں مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم توانائی کے راستوں کی سلامتی پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی ڈرون حملوں کے بعد بند ہے، جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتیں بھی نمایاں اضافے کا سامنا کر رہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے تہران کے مطالبات پورے کیے جانے سے مشروط ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ رواں سال کے اختتام تک ختم ہو سکتی ہے اور اس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

ادھر سعودی عرب کے جازان ریجن میں حوثی حملوں کے نتیجے میں بعض گھروں اور مساجد کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی قیادت نے امریکا سے حوثیوں کے خلاف مزید تعاون کی درخواست کی ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات نے خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔

Leave a reply