سستے پلانٹس کے باوجود مہنگے پاور پلانٹس چلانے کی وجہ سامنے آگئی

0
2
سستے پلانٹس کے باوجود مہنگے پاور پلانٹس چلانے کی وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد: پاکستان میں کم لاگت بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی موجودگی کے باوجود بعض اوقات مہنگے بجلی گھر بھی چلانا پڑتے ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی پیداوار کا نظام بنیادی طور پر کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دینے کے اصول پر قائم ہے، تاہم طلب اور رسد کی صورتحال کے باعث مہنگے پلانٹس استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب پن بجلی کی پیداوار کم ہو، رات کے وقت شمسی توانائی دستیاب نہ ہو، بجلی کی طلب اچانک بڑھ جائے یا کسی پلانٹ میں خرابی کے باعث وہ دستیاب نہ رہے تو نظام کو متوازن رکھنے کے لیے اضافی اور نسبتاً مہنگے پاور پلانٹس چلائے جاتے ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق کم استعمال ہونے والے یہ پلانٹس بجلی کے نظام میں بیک اَپ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت فوری طور پر بجلی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاور ڈویژن کے ٹیکنیکل ایڈوائزر سید فیضان علی شاہ کے مطابق ملک میں سولر انرجی کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے بعد بجلی کے قومی گرڈ کا استحکام مزید اہم ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق سردیوں کے دوران پن بجلی کی دستیابی بھی محدود ہوجاتی ہے، جبکہ گیس کی فراہمی میں مسائل کے باعث بعض پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق نہیں چل پاتے۔

حکام نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی دستیاب صلاحیت کا تقریباً 5 فیصد حصہ موجود تھا، تاہم عملی طور پر اس کا صرف ایک فیصد استعمال ہوا۔

پاور ڈویژن کے مطابق اسی مالی سال میں تقریباً 1,863 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹس کو صرف کم استعمال ہونے والے یا مہنگے پاور پلانٹس سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق مجموعی کیپسٹی پیمنٹس میں تقریباً 944 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی، 471 ارب روپے آپریشنز اور دیکھ بھال کے اخراجات، جبکہ 449 ارب روپے سرمایہ کاری پر منافع کی مد میں شامل تھے۔

یوں حکام کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل کیپسٹی پیمنٹس کی مکمل وجہ صرف مہنگے پلانٹس کا کم استعمال نہیں، بلکہ بجلی کے شعبے میں قرضوں، آپریشنل اخراجات اور سرمایہ کاری سے متعلق مالی ذمہ داریاں بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔

Leave a reply