امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی، اہم نشستوں پر کامیابیاں

امریکا میں انتخابات کے بعد مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جبکہ متعدد ریاستوں سے ابتدائی نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی نشستوں کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے 45 جبکہ ریپبلکن پارٹی نے 36 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اسی طرح 218 نشستوں پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس 113 اور ریپبلکنز 62 نشستوں پر کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق متعدد ڈیموکریٹک امیدواروں نے اپنی نشستیں برقرار رکھی ہیں، جبکہ کئی حلقوں میں نئے امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق الاباما، ڈیلاویئر، فلوریڈا، الینوائے، میساچوسٹس، مین، مسی سپی، نیو ہیمپشائر، نیو میکسیکو، ٹیکساس، ساؤتھ ڈکوٹا اور وائیومنگ سمیت مختلف ریاستوں میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی ہے۔
سینیٹ کے انتخاب میں ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹک امیدوار مارک وارنر نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی چوتھی مدت کے لیے نشست برقرار رکھی۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دی۔
ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹک امیدواروں نے مختلف حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ فلوریڈا کے 20ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیبی واسرمین شلٹز دوبارہ منتخب ہوگئیں، جبکہ کینٹکی کے تیسرے حلقے سے مورگن میک گاروی نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی۔
جارجیا کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے جیسمین کلارک کامیاب ہوئیں، جبکہ اسی ریاست کے پانچویں حلقے سے نیکیما ولیمز نے ریپبلکن امیدوار جان سالویسن کو شکست دے کر دوبارہ کامیابی حاصل کی۔
فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے الیگزینڈرو فراسٹ، 23ویں حلقے سے لوئس فرینکل اور جارجیا کے چھٹے حلقے سے لوسی میک باتھ بھی کامیاب قرار پائے۔ لوسی میک باتھ نے ریپبلکن حریف کیون ای مارٹن کو شکست دی۔
دوسری جانب ریپبلکن امیدواروں نے بھی مختلف حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ کینٹکی کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ہال راجرز دوبارہ منتخب ہوگئے، جبکہ فلوریڈا کے 19ویں حلقے سے ریپبلکن امیدوار جم شوارٹزل نے ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی۔
امریکی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں دونوں بڑی جماعتوں کی مجموعی پوزیشن واضح ہوگی۔









