حکومت کا ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم کرنے اور درآمدات مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ

0
29
حکومت کا ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم کرنے اور درآمدات مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کے شعبے میں اجارہ داری ختم کرنے، شفافیت بڑھانے اور قیمتوں میں مسابقت پیدا کرنے کے لیے کوٹہ سسٹم ختم کرنے اور درآمدات کو مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومتی فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی مارکیٹ میں چند عناصر کی اجارہ داری اور من پسند کوٹوں کے ذریعے کاروباری فوائد حاصل کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی صارفین تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ریفائنریوں کے منافع اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بھی عوام کو ریلیف دینیکےاقدامات کیےہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اوگرا اپنی ویب سائٹ پر متعلقہ معلومات اور تفصیلات شائع کر رہا ہے تاکہ نظام میں شفافیت پیدا ہو اور عوام کو درست معلومات میسر آسکیں۔ ان کے مطابق شوگر سیکٹر سے ٹیکس کی مد میں اضافی 60 ارب روپے کی وصولی بھی حکومتی اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔

دوسری جانب وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار تقریباً 2 ہزار سے 2500 ٹن ہے، جبکہ مجموعی طلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمت 800 روپے فی کلو تک پہنچنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جس کا نوٹس لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ایل پی جی درآمد کرنے والی کمپنیوں کو اپنی درآمدی قیمتیں ویب سائٹس پر ظاہر کرنا ہوں گی۔ مقامی پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو بھی پانچ یا دس ٹن کی کھیپ بنا کر نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کی ہدایت دی جائے گی، جبکہ نیلامی کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع اور درآمدی نظام کو بہتر بنا رہی ہے۔ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث ایل این جی کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان اپنی ایندھن کی تقریباً 70 فیصد ضروریات بیرون ملک سے پوری کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سردیوں میں گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کو ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی معاونت حاصل کی جائے گی۔

حکومتی حکام کے مطابق ایل پی جی کی خرید و فروخت میں شفافیت، درآمدات میں مقابلے اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین کا عمل زیادہ واضح ہونے اور صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

Leave a reply