امریکا کا خلا میں خفیہ فوجی صلاحیتوں کی موجودگی کا اعتراف، تفصیلات بدستور راز

0
0
امریکا کا خلا میں خفیہ فوجی صلاحیتوں کی موجودگی کا اعتراف، تفصیلات بدستور راز

واشنگٹن: امریکا نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کی بعض فوجی صلاحیتیں زمین کے مدار میں موجود ہیں، جنہیں ’’اسپیس کنٹرول ویپنز‘‘ کہا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان نظاموں کا مقصد خلا میں موجود ممکنہ مخالف قوتوں کی صلاحیتوں کو محدود کرنا اور امریکی سیٹلائٹس و دیگر خلائی اثاثوں کا دفاع کرنا ہے، تاہم ان ہتھیاروں کی تعداد، نوعیت، تعیناتی کے وقت اور عملی صلاحیت سے متعلق معلومات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بدلتے ہوئے خلائی خطرات کے پیش نظر امریکا کو اپنی خلائی صلاحیتوں کو محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد رکھنا ہوگا۔

امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ مدار میں موجود مذکورہ نظام براہ راست دوسرے سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا ان کا مقصد مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈالنا، کسی نظام کو عارضی طور پر ناکارہ بنانا یا اس کی کارکردگی متاثر کرنا ہے۔

امریکی اسپیس فورس کے مطابق ’’اسپیس کنٹرول‘‘ سے مراد ایسی صلاحیتیں ہیں جن کے ذریعے کسی مخالف کی خلائی سرگرمیوں کو متاثر یا محدود کیا جا سکتا ہے۔ ان میں دفاعی اقدامات کے ساتھ جارحانہ نوعیت کی صلاحیتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق جدید جنگی نظام میں سیٹلائٹس کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ فوجی مواصلات، نیوی گیشن، نگرانی، انٹیلی جنس اور دیگر اہم آپریشنز بڑی حد تک خلائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی ملک کے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانا اس کی مجموعی فوجی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

امریکی اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا، چین اور روس کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی اور کاؤنٹر اسپیس صلاحیتوں کی دوڑ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ واشنگٹن مسلسل چین اور روس پر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جن کے ذریعے سیٹلائٹس کے سگنلز میں مداخلت یا خلائی اثاثوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

امریکا نے 2019 میں اسپیس فورس کو فوج کی نئی شاخ کے طور پر قائم کیا تھا۔ اس ادارے کی بنیادی ذمہ داری امریکی خلائی اثاثوں کے تحفظ اور خلا میں فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ہے۔

دوسری جانب خلا میں فوجی تنصیبات اور ہتھیاروں کی موجودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بھی بنتی رہی ہے۔ 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے تحت خلا میں جوہری اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ہے، تاہم روایتی خلائی ہتھیاروں اور اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی قوانین میں اب بھی کئی خلا موجود ہیں۔

امریکا روس کی بعض خلائی سرگرمیوں کو بھی خطرناک قرار دیتا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے سیٹلائٹ کمیونیکیشن میں مداخلت کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

حالیہ امریکی اعتراف سے ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ اب زمین اور سمندر تک محدود نہیں رہا بلکہ خلا بھی مستقبل کی فوجی حکمت عملی کا اہم محاذ بن چکا ہے۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے ان مبینہ خلائی ہتھیاروں کی حقیقی نوعیت اور صلاحیت ظاہر نہ کیے جانے کے باعث ان کے بارے میں کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔

Leave a reply