خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی، آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار

0
7
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی، آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار

اسلام آباد: خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال کے تناظر میں وفاقی حکومت نے مختلف آئینی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور سینئر حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس کے شرکا کو ملک میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دستیاب آئینی و قانونی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں گورنر راج سمیت دیگر ممکنہ اقدامات بھی شامل ہیں۔

تاہم اجلاس کے اختتام تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومتی حلقوں میں آئندہ ایک روز کے دوران اہم پیش رفت کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

پشاور میں اہم مشاورت

اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صوبے کی سیکیورٹی، امن و امان اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ بھی موجود تھے۔ متعلقہ حکام نے صوبے میں انتظامی اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

ملاقات کے دوران ممکنہ آئینی اقدامات اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف راستوں پر بھی غور کیا گیا۔

سیاسی کشیدگی میں اضافہ

وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لانگ مارچ سمیت مختلف معاملات پر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اسلام آباد اور پشاور میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات سے متعلق قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی اور قانونی دائرے میں جو بھی ذمہ داری عائد ہوئی، اسے پورا کیا جائے گا۔

اب وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی مشاورت کے بعد سب کی نظریں وفاقی حکومت کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انتظامی اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے اگلے 24 گھنٹے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply