یمن میں جنگ پھر بھڑک اٹھی، حکومتی فورسز کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ

صنعاء: یمن میں کئی برس سے جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یمنی حکام کے مطابق حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم گزرگاہ باب المندب کے اطراف پیش قدمی کرتے ہوئے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ حکام نے ذُباب کے قریب واقع ایئرپورٹ اور باب المندب سے ملانے والی اہم شاہراہ پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ ذُباب اور میون جزیرے میں موجود حوثی جنگجوؤں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مغربی ساحلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
صنعاء کی جانب فوجی پیش قدمی
یمنی فوجی حکام کے مطابق حوثیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعاء کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں زمینی فوج کے ساتھ جدید فضائی اور میزائل صلاحیتیں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے فوج اور سیکیورٹی اداروں کو منظور شدہ منصوبے کے تحت کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق مقصد ملک میں ریاستی اداروں کی عمل داری بحال کرنا ہے۔
تاہم حوثی گروپ نے یمنی حکومت کی جانب سے بعض علاقوں پر مکمل کنٹرول کے دعووں کی تردید بھی کی ہے، جس کے باعث میدانِ جنگ کی تازہ صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔
سعودی اتحاد کی فضائی مدد
یمنی حکومتی فورسز کی کارروائیوں کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی فضائی معاونت حاصل ہے۔
اتحادی حکام کے مطابق حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اب تک سیکڑوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے، جبکہ یمنی حکومتی فورسز کو مسلسل فضائی مدد فراہم کی جارہی ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق ایک حالیہ دن کے دوران بڑی تعداد میں جنگی طیاروں نے آپریشن میں حصہ لیا، جبکہ حوثیوں کے متحرک ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یمنی فوج نے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے پر کارروائیوں اور حوثی جنگجوؤں کو جانی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
تعز کا محاذ بھی اہم ہوگیا
یمن کے شہر تعز کے اطراف بھی لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے شہر کے قریب بعض اہم پہاڑی مقامات پر پیش قدمی کی ہے اور تعز کو جنوبی شہر عدن سے ملانے والے راستوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایک اہم سپلائی روٹ متاثر ہونے سے حکومتی فورسز کے لیے رسد اور نقل و حرکت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعز کا محاذ اس لیے اہم ہے کہ شہر مغربی اور جنوبی یمن کے درمیان ایک اہم جغرافیائی رابطہ فراہم کرتا ہے۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔
اس راستے سے عالمی تجارت کا ایک اہم حصہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں طویل لڑائی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے تیل، ایندھن، خوراک اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ باب المندب کے اطراف کنٹرول حاصل کرنا نہ صرف ملک کی فوجی صورتحال بلکہ عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔
حوثیوں کی سابقہ پیش قدمی
حکومتی کارروائی سے قبل حوثیوں نے بھی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ حوثیوں کی جانب سے ساحلی پٹی کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، جس کے بعد تعز اور مغربی ساحل کے محاذوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
حوثی گروپ 2014 سے دارالحکومت صنعاء سمیت شمال مغربی یمن کے بڑے آبادی والے علاقوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
سعودی عرب نے 2015 میں یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کے ساتھ مداخلت کی تھی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد کئی عرصے تک لڑائی میں نسبتاً کمی رہی، تاہم بعد میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
جنگ کے ساتھ انسانی بحران بھی سنگین
یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی نے پہلے سے شدید انسانی بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
عالمی امدادی اداروں کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ کئی خاندان بنیادی خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیا کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ یمن اپنی غذائی ضروریات کے بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے بندرگاہوں اور بحری راستوں میں کسی بھی بڑے خلل کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اضافی مالی امداد فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں متاثرہ افراد کے لیے خوراک اور دیگر امدادی پروگرام جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
سعودی عرب کا مؤقف
سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد یمن میں ریاستی اداروں کی بحالی اور بحیرۂ احمر و باب المندب میں بحری جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ ہے۔
یمنی حکومت نے بھی عالمی برادری سے تعاون بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ریاستی اختیار کی بحالی نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے اور عالمی بحری تجارت کے مفاد میں ہے۔
دوسری جانب جاری فوجی کارروائی کے نتیجے میں یمن کے انسانی بحران اور علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









