
اسلام آباد کی جانب مختلف سیاسی اور کسان تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مارچ کے اعلانات کے بعد حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ جماعتوں سے الگ الگ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور آج متوقع ہے۔ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
ادھر کسان اتحاد کی جانب سے 25 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت کو کسان نمائندوں سے بات چیت کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ساتھ بھی غیر علانیہ رابطے جاری ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطوں میں چیئرمین گوہر علی خان کے ذریعے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والی جماعتوں کو ایک مخصوص مقام پر مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے تاکہ احتجاج کے ساتھ شہریوں اور معمول کی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات طے نہ ہوسکے تو حکومت قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق آئندہ اقدامات کرے گی۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات کو بھی احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔









