
کرک: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں کرک سے کوہاٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
مارچ نے گزشتہ روز لکی مروت کے گنڈی چوک سے سفر کا آغاز کیا تھا اور تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد رات گئے کرک پہنچا، جہاں جیل چوک کے مقام پر شرکا کے لیے قیام کا انتظام کیا گیا۔
قافلے میں بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک اور دیگر اضلاع کے کارکنان شریک ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے آنے والے افراد سمیت بلوچستان کے ضلع ژوب سے آنے والے بعض قافلے بھی مختلف مقامات پر رکاوٹوں کے باوجود مارچ میں شامل ہوئے۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ مقررہ وقت پر کرک نہیں پہنچ سکا۔
دوسری جانب انتظامیہ نے سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کرک اور ملحقہ علاقوں میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند کر رکھی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق مارچ کے شرکا آج رات کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں قیام کریں گے۔
پی ٹی آئی کے طے شدہ پروگرام کے مطابق اگلے مرحلے میں کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے آنے والے قافلے مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ پشاور کی طرف روانہ ہوگا۔ پشاور سے تقریباً 30 کلومیٹر دور متنی کے مقام پر بھی رات گزارنے کا پروگرام ہے۔
مارچ کے اگلے مرحلے میں بڈھ بیر کے مقام پر پشاور اور ضلع خیبر کے مختلف علاقوں سے کارکنان قافلے کا استقبال کریں گے، جبکہ بعد ازاں مارچ چارسدہ انٹرچینج کی جانب بڑھے گا۔
پی ٹی آئی کے مطابق چارسدہ اور مہمند سے آنے والے قافلے بھی بعد میں مارچ کا حصہ بنیں گے اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے خیرآباد میں جمع ہوں گے۔ وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ادھر لانگ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اٹک اور ٹیکسلا میں انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔ ممکنہ طور پر راستے بند کرنے کے لیے مٹی اور پتھروں سے بھرے تھیلے بھی مختلف مقامات پر رکھے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔








